وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کو مزید ٹیکس کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی ہدایت

پائیدار معاشی استحکام اور ترقی کیلئے قلیل المدتی، وسط مدتی اور کثیر المعیاد اقدامات پر مبنی روڈ میپ تجویز کیا جائے تاکہ معیشت کے اہم شعبوں کو مزید منظم کیا جا سکے: اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے خطاب

100
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی مشاورتی کونسل کو مزید ٹیکس لگانے کی بجائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے آؤٹ آف باکس سلوشنز تجویز کرنے اور معاشی استحکام و پائیدار بڑھوتری کے لئے روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس کی ورچوئلی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے تمام ممبران کو کونسل میں خوش آمدید کہا، انہوں وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اہم معاملات پر تجاویز پیش کرنے والی اس کونسل کی مکمل طور پر فعالیت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ کونسل کے قیام کا مقصد معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے نامور معاشی ماہرین کی تجاویز سے استفادہ کرنا ہے۔

وزیراعظم نے معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے پیش نظر عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے آؤٹ آف باکس سلوشن تجویز کیے جائیں تاکہ ان سے جہاں عوام کو ریلیف میسر آئے وہاں معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں کی بدولت کاروباری فضا بہتر ہوئی ہے اور تاجر برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت کی ہر ممکنہ کوشش رہی ہے کہ بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے نہ صرف پالیسیاں تشکیل دی جائیں بلکہ ان پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے اس موقع پر ایف بی آر میں جاری اصلاحات کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کرنا اور اسے آسان اور فعال بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

عمران خان نے اقتصادی مشاورتی کونسل کو ہدایت کی کہ پائیدار معاشی استحکام اور ترقی کے حوالے سے قلیل المدتی، وسط مدتی اور کثیر المدتی اقدامات پر مبنی روڈ میپ تجویز کیا جائے تاکہ توانائی، تعمیرات، زراعت، سیاحت، سماجی تحفظ، سبسڈی، قیمتوں کا استحکام، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کا فروغ، ترسیلات زر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے اہم معاشی شعبوں کو مزید منظم کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں وزیر خزانہ شوکت ترین نے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے کلی معیشت کے استحکام کیلئے اقدامات اور جامع و پائیدار بڑھوتری کیلئے اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل مشاورتی عمل کی پیروی کرتے ہوئے عوامی فلاح وبہبود کیلئے مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں کو مفید بنانے کیلئے اقدامات تجویز کرے گی۔ وزیر خزانہ نے ذیلی گروپس تشکیل دیئے جو مخصوص شعبوں میں کام کریں گے۔ یہ گروپ تمام فریقوں کی مشاورت سے جامع اور ٹھوس سفارشارت پیش کریں گے۔

وزیر خزانہ نے موثر منصوبہ بندی کیلئے نظام الاوقات کے اندر رہتے ہوئے قلیل، وسط مدتی اور طویل المعیاد منصوبے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس باقاعدگی سے ہو گا، کونسل کے ارکان تفصیلی بحث و مباحثہ کیلئے اپنی سفارشات پیش کریں گے۔

اس موقع پر معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے اجلاس میں تفصیلی پریزینٹیشن دی، انہوں نے جامع و پائیدار بڑھوتری، ملازمتوں کے مواقع کی فراہمی، قیمتوں کے استحکام کے طریقہ کار، ٹیکس اصلاحات، تعمیرات، کاروبار میں آسانیوں، پنشن اصلاحات، سبسڈیز کو معقول بنانے، فوڈ سیکیورٹی، بجلی اور توانائی کے شعبہ کے احیائےنو، سماجی تحفظ، صحت اور اسلوب حکمرانی میں بہتری جیسے ترجیحی شعبہ جات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

وفاقی وزراء نے کونسل کے ارکان کو متعلقہ شعبوں میں بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔ نجی شعبہ کے ارکان نے بلیو اکانومی کو فروغ دینے، منڈیوں تک رسائی میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کی اہمیت، درآمدات کی بجائے مقامی اشیاء کے پیداوار اور استعمال، تجارتی کاشت کاری، صنفی مساوات پر مبنی ملازمتوں کی فراہمی، ٹیکس و ٹیرف کی ساخت کو ہم آہنگ بنانے، ماحولیاتی تبدیلیوں، ایس ایم ایز، گردشی قرضوں اور بجلی کے شعبہ سے متعلق مسائل پرقیمتی آراء دیں۔

وزیر خزانہ نے ارکان کی جانب سے اختراعی خیالات کو سراہا اور تمام متعلقہ فریقوں کی اتفاق رائے سے مضبوط اقتصادی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل میں صوبائی حکومتوں کی موثر شمولیت انتہائی ضروری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء خسرو بختیار، سید فخر امام، عمر ایوب خان، مشیران عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹرعشرت حسین، معاونین سید ذولفقار عباس بخاری، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر وقار مسعود، ایف بی آر، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے شرکت کی۔ اجلاس میں نجی اور کارپوریٹ شعبہ کے کلیدی نمائندے بھی شریک ہوئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here