ماہی گیروں کو بااختیار بنانے کیلئے وزارت بحری امور کا چار بینکوں کیساتھ معاہدہ

ایم او یو کے مطابق ماہی گیر 10 لاکھ سے اڑھائی کروڑ روپے تک قرض حاصل کر سکیں گے جس سے وہ ماہی گیری کیلئے مشینری، آلات، انجن اور آن شور فریزر خرید سکیں گے

107
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ماہی گیری کے فروغ کیلئے وزارت بحری امور اور چار بینکوں کے مابین ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں شریک ہیں (پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وزارت بحری امور نے چار بینکوں کے اشتراک سے ماہی گیری کے شعبے کی ترقی اور ماہی گیروں کو بااختیار بنانے کا پروگرام شروع کر دیا جس کیلئے وزیراعظم کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

ایم او یو کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب اور حبیب بینک لمیٹڈ ماہی گیری کی صنعت کی ترقی کیلئے قرضے فراہم کریں گے۔ ماہی گیر اب 10 لاکھ روپے سے اڑھائی کروڑ روپے تک قرض حاصل کر سکیں گے جس سے وہ ماہی گیری کیلئے مشینری، آلات، انجن اور آن شور فریزر خرید سکیں گے۔

مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ بہترین منصوبہ ہے جس کے ذریعے ماہی گیروں کی زندگیوں کو بدلا جا سکتا ہے۔ یہ پروگرام ہمارے نظریے کے مطابق ہے، ہماری تحریک کو 25 سال مکمل ہونے والے ہیں، ہماری کامیابی یہ ہو گی کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا، جو ماضی میں دہشت گردی کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا، میں 2013ء سے 2018ء تک غربت میں سب سے زیادہ کمی ہوئی اور امیر اور غریب کا فرق کم ہوا، پانچ سال بعد ہماری اصل کامیابی یہ ہو گی کہ ہم نے کتنے لوگوں کو غربت سے نکالا۔

انہوں نے کہا کہ ماہی گیر مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہیں، کئی بار انہیں دیہاڑی نہ لگنے کے باعث بھوکا رہنا پڑتا ہے۔ چار بڑے بینکوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس پروگرام کے لئے اشتراک کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بینکوں کا معیشت کو اٹھانے کے لئے بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بینکوں کو چھوٹے کاروباری طبقے کو قرضے دینے چاہئیں۔ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا اور معیشت اوپر اٹھے گی۔

عمران خان نے کہا کہ وزارت سمندری امور ماہی گیروں کے لئے مثبت اقدامات کر رہی ہے، کولڈ اسٹوریج کی فراہمی سے ماہی گیری کو فائدہ ہو گا، پاکستان کے ساحلی علاقے کیج فشنگ کے لئے بہترین ہیں، دریاؤں میں ماہی گیری کے بہت مواقع ہیں۔

قبل ازیں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے کہا کہ کابینہ کو ڈیپ سی فشنگ پالیسی تیار کر کے بھجوائی جائے گی، پاکستان میں ماہی گیری کے شعبے میں اڑھائی ارب ڈالر برآمدات کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس وقت صرف 40 کروڑ ڈالر کی برآمدات ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کو بااختیار بنانے کے پروگرام اور بینکوں کے اشتراک سے اب ماہی گیر اپنی کشتیوں کے مالک خود بنیں گے۔ انہیں 10 لاکھ سے اڑھائی کروڑ تک کا قرضہ دیا جائے گا جس سے وہ فشنگ کی مشینری، آلات، انجن اور آن شور فریزر خرید سکیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ڈیپ سی فشنگ کا لائسنس ایک لاکھ میں ملتا تھا اور ایک کروڑ میں بکتا تھا، ہم نے یہ سلسلہ روک دیا ہے۔ سمندر میں پھینکے جانے والے فضلے اور کوڑا کرکٹ سے ماہی گیری کو نقصان ہو رہا ہے۔ ماہی گیری کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا کہ ماہی گیر طبقہ کمزور لوگوں پر مشتمل ہے، بینکوں کے اشتراک سے انہیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے قرضے دیئے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here