پاکستان اور ازبکستان کا ترجیحی تجارت کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق

123

اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرکے ترجیحی تجارت کے معاہدوں کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

گزشتہ روز ہونے والی پاک ازبک ورچول سمٹ کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں کثیرالجہتی باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس سمٹ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوف نے شرکت کی، اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت نے خارجہ امور کی وزارتوں کے مابین مشاورت اور پارلیمانی تعاون سمیت موجودہ سیاسی اور معاشی میکنزم کو مزید مستحکم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

دونوں ملکوں کے رہنماﺅں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیموں کے فریم ورک کے اندر دوطرفہ تعاون کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، او آئی سی، اقتصادی تعاون تنظیم  اور دیگر بین الاقوامی اور علاقائی فورمز میں ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ممبران کی حیثیت سے فریقین نے انسانی حقوق کی پامالیوں اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لئے مشترکہ اقدامات کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔

فریقین نے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کو اجاگر کیا، دونوں رہنماﺅں نے سلامتی اور دفاع کے شعبے میں باضابطہ بات چیت کو برقرار رکھنے اور تعمیری تعاون پر آمادگی اور دفاعی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دفاعی شعبے میں تعاون کے فروغ کے لئے دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت جاری رکھنے، پیشہ ورانہ ترقی اور دونوں ممالک کے فوجی اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماﺅں نے بالخصوص دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔

اس بات پر بھی اتفاق کا گیا کہ دونوں ملکوں کے مابین شراکت کو مستحکم کرنے کے لئے تجارتی اور معاشی شعبے میں تعاون ایک اہم ترجیح ہے۔ تجارت میں تنوع لانے، کاروباری روابط بڑھانے، تجارتی وفود کے تبادلوں اور ویزاء کی سہولت میں توسیع کے ذریعہ مشترکہ اقدامات اپنانے کے ذریعے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

فریقین نے تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کر کے ترجیحی تجارت کے معاہدے (Preferential Trade Agreement ) کو تیزی سے حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ زراعت، دوا سازی، ٹیکسٹائل، چمڑے، کیمیکلز، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت کو تسلیم اور ان شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماﺅں نے اقتصادی ترقی اور ترقی کیلئے علاقائی اتحاد اور رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں تجارت، ریلوے اور ہوا بازی کے شعبوں میں اعلیٰ سطح کے دوروں کے تبادلوں کا خیرمقدم کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here