’چینی کی پیداواری لاگت 105 روپے، 80 روپے کلو نہیں بیچ سکتے‘

پنجاب کے رمضان بازاروں میں تین لاکھ ٹن چینی درکار، حکومت 15 لاکھ ٹن اٹھا رہی ہے، سرمایہ کار سبسڈی والی چینی خرید کر بلیک مارکیٹ میں فروخت اور دوسرے صوبوں کو سمگل کر رہے ہیں: شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیر خزانہ کو خط

339

لاہور: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت 80 روپے فی کلو گرام طے کرنے کی وجہ سے پنجاب کی تمام شوگر ملز کو مالی نقصان پہنچا ہے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف کی جانب سے اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی شوگر ملوں میں چینی کی پیداواری لاگت 105.77 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ گنے کی قیمت خرید 350 روپے فی من ہے حالانکہ حکومت پنجاب نے گنے کی فی من امدادی قیمت 200 روپے مقرر کی تھی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن نے کرشنگ سیزن کے دوران حکومت کو بتایا تھا کہ گنے کی قیمت مختلف عوامل کی وجہ سے بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں چینی کی قیمت بھی بڑھے گی تاہم اس کے جواب میں وزارت صنعت و پیداوار نے کہا تھا کہ حکومت گنے کی قیمتوں پر قابو نہیں رکھ سکتی۔

یہ بھی پڑھیے:

’چینی مافیا کے 10 افراد گرفتار، 57 بینک اکائونٹس منجمد‘

پنجاب میں چینی کی قیمت ’فکس‘ کرنے پر مسابقتی کمیشن کو تحفظات

لاہور ہائیکورٹ: رمضان المبارک کے دوران شوگر ملز سے چینی 80 روپے کلو خریدنے کا حکم

خط میں شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ شوگر انڈسٹری بحران کی طرف گامزن ہے، زیادہ تر شوگر ملز بینک قرضوں، کاشت کاروں کو ادائیگی، سیلز ٹیکس واجبات اور انکم ٹیکس ادائیگی کرکے دیوالیہ ہو جائیں گی، ملازمین کی تنخواہوں اور اجرت پر بھی اثر پڑے گا کیوںکہ لاکھوں خاندان براہ راست یا بلاواسطہ چینی کی صنعت پر منحصر ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ شوگر ملوں سے جو چینی عوام کے لئے خریدی گئی ہے، درحقیقت وہ سرمایہ کاروں کی شمولیت کی وجہ سے مبینہ طور پر پنجاب سے باہر جا رہی ہے، پنجاب کے رمضان بازاروں کے لئے تین لاکھ ٹن چینی درکار تھی لیکن حکومت 15 لاکھ ٹن سے بھی زائد اٹھا رہی ہے، اس واضح فرق نے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ پنجاب میں سبسڈی والی چینی خرید کر اس کی بلیک مارکیٹ کریں اور دوسرے صوبوں میں بھی اسمگل کریں۔

اس صورت حال کے پیش نظر شوگر ملز ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کی شوگر ملز کے مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جائے جس میں حکومت پنجاب کی جانب سے چینی کی قیمت 80 روپے فی کلوگرام مقرر کر نے کا جائزہ لیا جائے۔

علاوہ ازیں ایف بی آر کے ذریعہ شوگر ملز کو اربوں روپے ٹیکس وصولی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں، شوگر ملز کے خلاف نیب اور ایف آئی اے انکوائری کا جائزہ لیا جائے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی 40 شوگر ملز سے ان کی پیداوار کے مطابق ایک لاکھ 55 ہزار ٹن چینی 80 روپے کلو گرام کے حساب سے خریدنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ماہِ رمضان میں لوگوں کو چینی ملنی چاہیے، یہ ثواب کا کام ہے۔ تاہم مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں چینی کی قیمت ’فکس‘ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بلیک مارکیٹ اور سمگلنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

کمیشن نے اپنے پالیسی نوٹ میں حکومت کو فری ٹریڈ کو فروغ دینے کے لیے شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مشورہ دیا تھا تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے، مسابقت بڑھانے اور مقامی سطح پر رسد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے قیمتوں کے اشاریے تمام سٹیک ہولڈرز کو مؤثر طریقے سے پہنچائے جا سکیں۔

سی سی پی نے کہا تھا کہ صرف پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں چینی کی قیمت مقرر کی گئی ہے، اس کا فوری اثر یہ ہو سکتا ہے کہ کہ چینی دیگر صوبوں میں منتقل کر دی جائے گی جہاں کسی قسم کے نرخ مقرر نہیں کیے گئے اور اس سے مارکیٹ میں چینی کی قیمت آسمان پر پہنچ جائے گی۔

کمیشن نے کہا تھا کہ قیمتوں پر کنٹرول سے سپلائرز کو ذخیرہ اندوزی کی شہ ملے گی، یا خاص کر رمضان میں صارفین قیمتیں بڑھنے کے ڈر سے زیادہ چینی خرید سکتے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں چینی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا چینی مہنگی ہونے کا خدشہ ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here