پی ایس کیو سی اے کرپشن کا گڑھ، وزارت سائنس کرپٹ افسروں کیخلاف کارروائی سے گریزاں

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے کئی افسروں اور اہلکاروں کے خلاف نیب اور ایف آئی اے میں کرپشن کیسز پر انکوائریاں جاری، بیوروکریسی قائمہ کمیٹی کو بھی دھوکا دینے لگی، کرپٹ افسروں کیخلاف کارروائی کے 227 احکامات ہوا میں اڑا دیے

513

اسلام آباد: وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بالآخر پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) میں اہم عہدوں پر فائز افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔

اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے مذکورہ افسران کیخلاف نیب اور ایف آئی اے میں کرپشن کیسز کے سلسلے میں انکوائری کی جا رہی ہے، وزارت نے پھر بھی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزارت سائنس کی جانب سے 5 اپریل 2021ء کو ڈائریکٹر جنرل پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی عبدالعلیم میمن کو ایک خط کے ذریعے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے جو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سامنے بھی پیش کیا جائے گی کیونکہ کمیٹی اس سے پہلے بھی کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکی ہے۔

پرافٹ اردو کو موصول ہونے والی خط کی کاپی کے مطابق وزارت نے ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے کو ہدایت کی ہے کہ اتھارٹی کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں کے خلاف زیرِالتواء کیسز پر انکوائری شروع کی جائے اور اس کی رپورٹ جلد از جلد جمع کرائی جائے۔

یہ رپورٹ 6 اپریل تک جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن دفتری اوقات گزرنے تک  سینیٹ سیکریٹریٹ کو رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔

3 فروری 2021ء کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے قرار دیا تھا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ تمام احکامات کو وزارتِ سائنس کی طرف سے نظرانداز کیا گیا ہے۔ پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کے چئیرمین مشتاق احمد نے بھی کچھ ایسا ہی دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران دی گئی تمام ہدایات کو وزارت کے حکام کی طرف سے نظرانداز کیا گیا ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی کے مطابق عوامی مفاد کے پیش نظر اور مسائل کو حل کرنے کے لیے وزارت سائنس اور اس کے ذیلی محکموں کو قائمہ کمیٹی نے مختلف اجلاسوں میں کم از کم 227 بار ہدایات جاری کیں لیکن “بدقسمتی سے تمام ہدایات کو نظرانداز کر دیا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ رواں ماہ کمیٹی کی مدت پوری ہو رہی ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وزارتِ سائنس میں موجود بیوروکریسی ‘سٹیٹس کو’ کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔

قائمہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران سینیٹر نعمان وزیر نے کہا تھا کہ وزارت سائنس کے ذیلی محکمے محض تنخواہیں دینے کے مراکز بنے ہوئے ہیں۔ بیوروکریسی کا یہ رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران جب بھی وزارت سائنس یا اس کے ذیلی اداروں میں کرپشن، بے ضابطگی، فراڈ یا بدانتظامی کی بات کی گئی تو وزارت کے حکام سینیٹ کی مذکورہ کمیٹی کو دھوکا دیتے رہے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چئیرمین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ کرپشن کیسز میں انکوائریاں کرنے کے حوالے سے دیے جانے والے احکامات کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

اس سے قبل اجلاسوں میں کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی تھی کہ کرپشن الزامات کا سامنا کرنے والے تمام بدعنوان افسران کو معطل کیا جائے، کمیٹی کی جانب سے بارہا کہا گیا کہ کم از کم اعلیٰ عہدوں پر فائز کرپٹ افسروں کو ہی ہٹا دیا جائے تاکہ تحقیقات کی شفافیت برقرار رہ سکے۔

اجلاسوں کے دوران قائمہ کمیٹی نے پاکستان کونسل آف سائٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ  (پی سی ایس آئی آر) کی سنیارٹی لسٹ میں بے ضابطگیوں، پی ایس کیو سی اے میں جاری کرپشن کیسز اور دونوں اداروں میں زیرالتواء ترقی سے متعلق کیسز سمیت اہم مسائل پر بات چیت کی۔

لیکن اس سب کے برعکس وزارت سائنس کی جانب سے عدالتوں میں چلنے والے کیسز اور ترقیوں اور تقرریوں سے متعلق توہین عدالت کے کیسز پر بھی کان نہیں دھرے، یہ سب معاملات قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں بھی زیرِ بحث آئے۔

قائمہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ پی ایس کیو سی اے حکام کے خلاف کم از کم 33 انکوائریاں ایف آئی اے اور نیب میں کئی سالوں سے زیرِالتواء ہیں، بلکہ سیکرٹری پی ایس کیو سی اے غلام عمر قاضی کیخلاف نیب اور ایف آئی اے میں پانچ مختلف انکوائریاں جاری ہیں اور موصوف دس سال سے عہدے پر براجمان ہیں۔

فہرست کے مطابق وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے لیگل ڈائریکٹر خالد احمد ببلانی کیخلاف ایف آئی اے اور نیب میں کم از کم پانچ انکوائریاں جاری ہیں، ان کے خلاف کرپشن، سرکاری فنڈز اور کراچی میں پی ایس کیو سی اے کمپلیکس کیلئے سازوسامان کی خریداری میں خردبرد کرنے اور کنسائنمنٹ کی کلئیرنس کے لیے غیرقانونی ٹی آر سی جاری کرنے پر انکوائری جاری ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس الگ ہے۔

پی ایس کیو سی اے کے لائسنس، سٹینڈرڈائزیشن اینڈ کنفورمٹی اسیسمنٹ کے ڈائریکٹر علی بخش سومرو کو بھی نیب اور ایف آئی اے میں غیرمعیاری مصنوعات کو لائسنس جاری کرنے، بے ضابطگیوں اور امپورٹ ایکسپورٹ کے لیے غیرقانونی کنسائنمنٹ کلئیرنس کے لیے ٹی آر سی جاری کرنے سے متعلق تین انکوائریوں کا سامنا ہے۔

مزید برآں ڈپٹی ڈائریکٹر (ایف اینڈ اے) سید علی محمد بخاری کو بھی ایف آئی اے اور نیب میں دو انکوائریوں کا سامنا ہے۔ پی ایس کیو سی اے کے اعلیٰ حکام سے قطع نظر سابق ڈائریکٹر جنرل پیر بخش خان جمالی کو بھی کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قوانین کی خلاف ورزی کی تین انکوائریوں کا سامنا ہے۔ سابق ڈائریکٹر جنرل برکت سعید میمن سے بھی ایف آئی اے اور نیب کی طرف سے تین کیسز میں تفتیش جاری ہے۔

اتھارٹی کے دیگر کئی حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ افسران سمیت سابق ڈائریکٹر اعجاز علی پنوار، ڈائریکٹر فنانس نذیر حسین، سابق ڈائریکٹر خالد حسین لانگھا کو بھی ایف آئی اے اور نیب میں مختلف انکوائریوں کا سامنا ہے۔

نیب اور ایف آئی اے میں ذرائع کے مطابق اس فہرست میں مذکورہ بالا انکوائریاں جاری ہیں جبکہ پی ایس کیو سی اے کے حکام کئی کیسز میں دستاویزات اور دیگر شواہد کی فراہمی کے لیے تعاون نہیں کر رہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here