لاہور چیمبر کا انجینئرنگ، فارماسیوٹیکلز، چاول اور حلال گوشت کو زیروریٹڈ سہولت دینے کا مطالبہ

فارماسیوٹیکل سیکٹر کی عالمی تجارت کا حجم 600 ارب ڈالر سے زائد ہے، اس شعبے کو سہولیات دے کر پاکستان عالمی تجارت میں خاطر خواہ شئیر حاصل کر سکتا ہے: صدر لاہور چیمبر طارق مصباح

263

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکلز، چاول اور حلال گوشت سمیت دیگر شعبوں کو زیروریٹڈ کی سہولت دی جائے۔

ایل سی سی آئی کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا ہے کہ فارماسیوٹیکل سیکٹر کی عالمی تجارت کا حجم 600 ارب ڈالر سے زائد ہے، اس شعبے کو سہولیات دے کر پاکستان عالمی تجارت میں خاطر خواہ شئیر حاصل کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کم کرنے کے ساتھ ساتھ سیلز ٹیکس ای ریفنڈ سسٹم میں موجود خامیاں بھی دور کرے تاکہ تمام سسٹم کو بہترین اور شفاف بنایا جا سکے، علاوہ ازیں ایکسپورٹ سے وابستہ بہت سی صنعتوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد ہے جس میں کمی لائی جانی چاہئے۔

ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق اور ممبر اِن لینڈ ریونیو پالیسی چودھری محمد طارق سے ورچوئلی گفتگو کرتے ہوئے میاں طارق مصباح نے کہا کہ نجی شعبہ کی مشاورت و فیڈبیک صنعت و تجارت اور معیشت کے لیے موافق پالیسیوں کی تشکیل میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی ہے، لاہور چیمبر نے مشاورت اور انتہائی محنت سے وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز مرتب کر کے متعلقہ محکموں کو بھجوائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کی بجٹ تجاویز تاجر برادری کو درپیش مسائل اور ان کے بہترین حل کے لیے تجاویز کا مجموع ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کاروباری لاگت میں کمی لانے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کر نے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمرشل امپورٹرز کی سہولت اور ضروری خام مال کی بلارکاوٹ درآمد یقینی بنانے کے لیے امپورٹ کی سطح پر ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جانا چاہئے اور فائنل ٹیکس رجیم نافذ کیا جا نا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر رجسٹرڈ افراد کو سیلزکے لیے قومی شناختی کارڈ کی شرط ختم کی جانی چاہئے اور  ریٹیل سیکٹر کے لیے ٹرن اوور ٹیکس کا ریٹ 1.5 فیصد سے کم کیا جا نا چاہئے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کورونا کی وجہ سے جو غیرمعمولی حالات پیدا ہوئے ہیں ان کے پیش نظر اگلے دو سال تک کوئی آڈٹ نہ کیا جائے، نئی رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں، بالخصوص سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو اگلے تین سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دی جانی چاہئے۔

ٹیکس نظام آسان اور عام فہم بنایا جانا چاہئے، ایک صفحہ پر مشتمل ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرایا جانا چاہئے، ٹیکس عملے کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں۔ کسٹم ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی ریکوری کے لیے نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ ختم کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کمرشل امپورٹرز کو 20 ہزار ڈالر تک کی ایڈوانس پیمنٹ کے بدلے میں امپورٹ کی اجازت دی جانی چاہئے، ویلیوایشن کی شرح میں کمی کی جانی چاہئے اور لاہور آفس کو میٹنگز کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

صدر لاہور چیمبر کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ٹیسٹنگ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹیسٹنگ لیبز کا قیام عمل میں لایا جا نا چاہئے، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی فنانسنگ تک رسائی آسان بنائی جا نی چاہئے۔ عارضی اکنامک ری فنانس کی سہولت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جانی چاہئے۔ دیگر ممالک کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی مارک اَپ کی شرح کم کی جانی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جانی چاہئے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ کاروباری شعبے کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ یہ عالمی منڈی میں خاطر خواہ جگہ حاصل کر سکیں، صدر لاہور چیمبر نے توقع ظاہر کی کہ حکومت چیمبر کی تجاویز کو اپنی بجٹ پالیسی کا حصہ بنائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here