سٹیٹ بینک کی ری فنانس سکیم، ایک سال میں 910 ارب روپے کے قرضے موخر

موخر یا ری سٹرکچر کئے گئے مجموعی قرضوں میں 717 ارب روپے کے کارپوریٹ قرضے، 121 ارب روپے کے مائیکرو فنانس قرضے اور 27 ارب روپے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے جاری کردہ قرضے شامل ہیں

187

اسلام آباد: سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اثرات کم کرنے کے حوالے سے ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران 910.7  ارب روپے کے قرضوں کی وصولی کو موخر یا ری سٹرکچر کیا ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی ری فنانس سکیم کا آغاز گزشتہ سال 26 مارچ 2020ء کو کیا گیا تھا جو رواں سال 31 مارچ 2021ء کو ختم ہو گئی ہے۔

اس سکیم کے تحت 2 اپریل 2021ء تک مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 657 ارب روپے کے قرضوں کے اصل زر کی وصولی کو موخر جبکہ 253 ارب روپے کے قرضوں کو ری سٹرکچر کیا گیا ہے۔

اس طرح سٹیٹ بینک ری فنانس سکیم کے تحت گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 910.7  ارب روپے کے قرضو ں کی وصولی موخر یا ان قرضہ جات کی ری سٹرکچر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موخر یا ری سٹرکچر کئے گئے مجموعی قرضہ جات میں 717 ارب روپے کے کارپوریٹ قرضے، 121 ارب روپے کے مائیکرو فنانس قرضے اور 27 ارب روپے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے جاری کردہ قرضے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی میں التواء یا ان کی ری سٹرکچرنگ کے لئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو مجموعی طور پر 18 لاکھ 83 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے 96.92 فیصد یعنی 18 لاکھ 25 ہزار درخواستوں کی منظوری دی گئی۔

مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق ری فنانس سکیم سے استفادہ کرنے والوں میں مائیکرو فنانس بینکوں سے قرضے حاصل کرنے والے صارفین کی نمایاں تعداد بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here