اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرول کی ترسیل کیلئے ٹیرف کی منظوری دے دی

388

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے محمود کوٹ- فیصل آباد-ماچھی کے (ایم ایف ایم) پائپ لائن کے ذریعے پیٹرول کی ترسیل پر 85 فیصد ریلوے ٹیرف لاگو کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ پیشرفت وزیر خزانہ محمد حماد اظہر کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق ای سی سی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو 870 کلومیٹر کراچی-محمود کوٹ (کے ایم کے) پائپ لائن کے ذریعے خام تیل اور ڈیزل آئل کی ترسیل کے لیے ٹیرف پر غور کرنے کی ہدایت بھی کی ہے جس پر گزشتہ بیس سالوں سے نظرثانی نہیں کی گئی۔

پرافٹ اردو کو دستیاب دستاویزات کے مطابق محمود کوٹ-فیصل آباد لائن کے لیے موجودہ روڈ ٹیرف 2268 روپے فی میٹرک ٹن اور محمود کوٹ-ماچھی کے کے لیے 3031 روپے فی میٹرک ٹن ہے۔

اسی طرح محمود کوٹ-فیصل آباد کے لیے موجودہ ریلوے ٹیرف 2155 روپے فی میٹرک ٹن اور محمود کوٹ-ماچھی کے کے لیے 2620 روپے فی میٹرک ٹن ہے۔

مزید برآں محمود کوٹ-فیصل آباد کے لیے تجویز کردہ ایم ایف ایم پائپ لائن ٹیرف 1932 روپے فی میٹرک ٹن اور محمود کوٹ-ماچھی کے کے لیے 2227 روپے فی میٹرک ٹن ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیرف سے حاصل شدہ رقم ایم ایف ایم پائپ لائن کے اردگرد ماحولیات کو بہتر بنانے، ٹینکرز کا بوجھ کم کرنے اور سڑکوں پر ترسیلی گاڑیوں کا رش کم کرنے میں خرچ ہو گی اور صارفین کو کم ترسیلی لاگت کی صورت میں سالانہ بنیادوں پر فائدہ دے گا۔

ایم ایف ایم پائپ لائن 1997ء میں پارکو کی طرف سے بچھائی گئی تھی جس کے ذریعے ڈیزل اور کیروسین جیسی ریفائنڈ مصنوعات کو لاہور کے قریب ماچھی کے اور فیصل آباد تک ترسیل کی جاتی ہے، پائپ لائن کی پمپنگ صلاحیت سالانہ 3.7 ملین ٹن کے قریب ہے۔

پاکستان میں صنعتی شرح نمو کو برقرار رکھنے اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے تیل کی ترسیل تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے مطابق سڑکوں پر ٹینکرز کی آمدرفت سے رش، تاخیر، حادثات، سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ماحولیات کا سنگین مسئلہ پیدا ہو رہا ہے، خاص طور پر جب سے شہری علاقوں میں توانائی کی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ان مسائل کا مثالی حل پیٹرولیم کی پائپ لائن کے ذریعے ترسیل ہے کیونکہ پائپ لائن ترسیل ماحولیات پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتی، اسی طرح وائٹ آئل پائپ لائن (ڈبلیو پی) نے کیماڑی سے محمود کوٹ پائپ لائن کی وجہ سے چار ہزار سے زائد آئل ٹینکرز کی نقل و حمل کو کم کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here