سال 2020ء کے دوران پی آئی اے کے خسارے میں 34 فیصد کمی

306

لاہور: مالی سال 2020ء کے دوران پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (پی آئی اے) کے خسارے میں 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس سے قبل 2019ء کے دوران قومی ائیر لائن کو 52 ارب 60 کروڑ روپے خسارہ برداشت کرنا پڑا تھا جو سال 2020ء کے دوران کم ہو کر 35 ارب 30 کروڑ روپے رہ گیا۔

سال 2020ء کے دوران کورونا وبا کے باعث سفری پابندیوں کی وجہ سے پی آئی اے کی خالص آمدن 58 فیصد کم ہو گئی تاہم ائیرلائن نے متعدد اقدامات کی مدد سے اپنے نقصانات کم کیے اور مجموعی طور پر ائیرلائن کے آپریٹنگ اخراجات کم رہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے سمیت دیگر سرکاری اداروں کے فرانزک آڈٹ کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی آئی اے کے ری سٹرکچرنگ پلان کی منظوری دیدی

وبا کے دوران پروازوں کی کمی سے ایندھن کی لاگت میں 20.6 فیصد کمی دیکھی گئی تاہم اس کے باوجود قومی ائیرلائن کا مجموعی منافع سالانہ لحاظ سے 67.2 فیصد کم رہا۔

پی آئی اے کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق کیلنڈر سال 2020ء کے دوران اس کے ترسیلی اخراجات چار ارب 70 کروڑ اور اتنظامی اخراجات لاگت پانچ ارب 70 کروڑ رہی، جو 2019ء میں ترسیلی اخراجات سے 23.8 فیصد اور انتظامی لاگت سے 17.8 فیصد کم ہے۔

2020ء کے دوران کرایوں میں متعدد بار کمی کی وجہ سے بھی پی آئی اے کی آمدن میں 16.36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،  مختلف چیلجنز اور مالی پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے باجود پی آئی اے کی انکم سٹیٹمنٹ میں خاطرخواہ بہتری دکھائی دی۔

پی آئی اے کے تمام بڑے روٹس، جس میں سعودیہ اور خلیجی ممالک، برطانیہ اور یورپ شامل ہیں، کے بند ہونے کے باعث آمدنی شدید متاثر رہی، عمرہ اور حج پروازوں کی آمدن کی معطلی نے بھی پی آئی اے کے محصولات کو متاثر کیا ہے۔ پی آئی اے کی آمدنی 36 فیصد کم رہی جس میں تقریبا دو ماہ کی آپریشن کی بندش بھی شامل ہے۔ تاہم نئے روٹس، چارٹر پروازوں اور پاکستانیوں کو وطن واپس لانے والی پروازوں سے آمدنی کو استحکام ملا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here