خیبر پختونخوا حکومت کا ایشیائی ترقیاتی بینک سے 99 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ

382

پشاور: حکومتِ خیبرپختونخوا نے محکمہ بلدیات کے ترقیاتی کاموں کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 99 ارب روپے کا بھاری قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک سے لیا گیا قرض صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا قرض ہو گا جس کے بارے میں صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قرض صوبے کے پانچ بڑے شہروں پشاور، سوات، مردان، ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے رہائشیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے مذکورہ پانچ شہروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی ضرویات فراہم کرنے کے لیے ایک میگا پروجیکٹ کی تجویز دی گئی ہے۔ معاہدے کے مطابق بینک آئندہ پانچ سالوں کے دران مرحلہ وار 93.118 ارب روپے فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخوا: خدمات پر سیلز ٹیکس کی آن لائن ادائیگی شروع کرنے کا فیصلہ

ڈیجیٹل خیبرپختونخوا: سرکاری دفاتر میں تاخیری حربوں کے خاتمے کیلئے فائل ٹریکنگ سسٹم نافذ

مزید برآں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے صوبائی حکومت کے لیے الگ سے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مذکورہ پانچ شہروں میں رہنے والے 30 لاکھ شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانا ہے۔

اس منصوبے کو ‘خیبر پختونخوا سیٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت مختلف شہروں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے گا اور پانی کا ضیاع روکنے کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں گے، کوڑا کرکٹ پھینکنے کیلئے جگہیں مختص کی جائیں گی اور کئی پبلک پارک بنائے جائیں گی۔

بینک کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق منصوبے کے ذریعے معاشرے کے کمزور اور متوسط طبقات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی اور ان اضلاع میں رہنے والی خواتین کے لیے تربیتی پروگرام اور خصوصی سکالرشپ متعارف کرائے جائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کے لیے 3.447 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جسے واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے پانچ سالوں میں مکمل کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here