وزیر خزانہ کا تنخواہوں اور پنشن کیلئے پائیدار ماڈل اپنانے پر زور

265

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد حماد اظہر نے کہا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کی تقسیم کا موجودہ ماڈل پائیدارنہیں ہے اور تنخواہوں، پنشن، الائونسز اور مراعات کو منصفانہ بنانے کیلئے بے ضابطگیوں کو دور کرنا ضروری ہے، وفاقی اور صوبائی ملازمین کو کمیشن کی سفارشات سے بڑی امیدیں وابستہ ہے۔

منگل کو پے اینڈ پنشن کمیشن کی چئیرپرسن نرگس سیٹھی نے وزیر خزانہ حماد اظہر سے ملاقات کی، اس موقع پر سیکرٹری خزانہ بھی موجود تھے۔

پے اینڈ پنشن کمیشن کی چئیرپرسن نرگس سیٹھی نے وفاقی وزیر کو تنخواہوں اور پنشن کی موجودہ ساخت کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے کمیشن کے مینڈیٹ کے مطابق طریقہ ہائے کار کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے وزیر خزانہ کو بتایا کہ تنخواہوں اور پنشن کا موجودہ نظام ملکی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہے اس لیے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے مالیاتی طور پر موزوں حل کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی عمل جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن کی تقسیم کا موجودہ ماڈل پائیدار نہیں ہے اور اس حوالے سے پائی جانے والی بے ضابطگیوں کو دور کرنا ازحد ضروری ہے تاکہ اس نظام کو منصفانہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں شفاف، قابل عمل اور پائیدار بنیادوں پر چلنے والے ماڈل کی ضرورت پر زور دیا۔

نرگس سیٹھی نے وزیر خزانہ کو بتایا کہ ملک بھر میں تنخواہوں اور پنشن کے نظام کو یکساں بنانے کیلئے ذیلی کمیٹیوں کو ٹرمز آف ریفرنس کے ساتھ کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، یہ کمیٹیاں اس ضمن میں مختلف تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لے رہی ہے۔

حماد اظہر نے پے اینڈ پنشن کمیشن کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پے اینڈ پنشن کمیشن کے سامنے ایک مشکل ہدف ہے کیونکہ وفاقی اور صوبائی ملازمین کو کمیشن کی سفارشات سے بڑی امیدیں وابستہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here