اسلامی بینکاری کے فروغ کیلئے سٹیٹ بینک کے تیسرے پانچ سالہ سٹریٹجک پلان کا اعلان

اس منصوبے کے تحت 2025ء تک مجموعی بینکنگ سیکٹر میں اسلامک بینکنگ کے اثاثوں اور ڈپازٹس کو 30 فیصد، برانچ نیٹ ورک میں 35 فیصد اور نجی شعبے میں ایس ایم ایز اور زرعی قرضوں کے اجراء میں بالترتیب 10 فیصد اور 8 فیصد کے برابر لایا جائے گا

178

کراچی: بینک دولت پاکستان نے اسلامی بینکاری کے فروغ کیلئے اپنے تیسرے پانچ سالہ تزویراتی منصوبے (سٹریٹجک پلان) کا اعلان کر دیا۔

اس منصوبے میں اسلامی بینکاری کے لیے 2025ء تک کے لیے عمومی اہداف مقرر کیے گئے ہیں جس میں مجموعی بینکاری صنعت کے اثاثوں اور ڈپازٹس دونوں میں 30 فیصد حصہ، مجموعی بینکاری صنعت کے برانچ نیٹ ورک میں 35 فیصد حصہ اور نجی شعبے میں ایس ایم ایز اور زرعی مال کاری میں بالترتیب 10 فیصد اور 8 فیصد حصہ شامل ہیں۔

اسلامی بینکاری کی نمو کو مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک اسلامک بینکنگ سیکٹر کے لیے تزویراتی منصوبوں کے اجراء کے ذریعے فعال رہنمائی فراہم کرتا رہا ہے، اب تک دو پانج سالہ تزویراتی منصوبے جاری کیے گئے ہیں۔

اسلامی بینکنگ سیکٹر کے لیے تیسرے تزویراتی منصوبے (2021-2025ء) میں اس شعبے کے لیے ایک سٹریٹجک سمت متعین کرنے کا ہدف ہے تاکہ ترقی کی رفتار بڑھے اور یہ شعبہ نمو کے اگلے مرحلے میں داخل ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے:

پانچ بڑے بینکوں کی بالادستی ختم ہونے کو ہے، مگر کیسے؟

بینکاری کے بڑے نام کے ساتھ بینک الفلاح کی کھیل میں واپسی!

یہ منصوبہ تمام کلیدی فریقوں کے ساتھ قریبی ارتباط اور مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے، منصوبے میں مذکورہ مخصوص اہداف کے حصول کے لیے چھ سٹریٹجک اصولوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں قانونی منظرنامے کو مستحکم کرنا، ضوابطی فریم ورک کو پہلے سے سازگار بنانا، جامع شریعہ نظم و نسق فریم ورک کو مستحکم کرنا، انتظامِ سیالیت کے فریم ورک کو بہتر بنانا، رسائی اور مارکیٹ کی تشکیل میں وسعت لانا اور انسانی سرمائے کو بڑھانا اور آگاہی پھیلانا شامل ہیں۔

اسلامی بینکاری صنعت پاکستان کے بینکاری نظام میں اپنے اثرات گہرے کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، فی الوقت 22 اسلامی بینکاری ادارے ( پانچ مکمل اسلامی بینک اور 17 روایتی بینکوں کی خصوصی اسلامی بینکاری برانچیں) موجود ہیں جو ملک کے 124 اضلاع میں تین ہزار 456 برانچوں اور ایک ہزار 638 اسلامی بینکاری ونڈوز (روایتی بینکاری کی برانچوں میں خصوصی کاونٹرز) کے ذریعے شریعہ سے ہم آہنگ مصنوعات اور خدمات پیش کر رہے ہیں۔

اسلامی بینکاری سیکٹر نے تناسب کے لحاظ سے مجموعی بینکاری صنعت کے 17 فیصد اثاثہ جات اور 18.3 فیصد ڈپازٹس کا مارکیٹ شیئر دسمبر 2020ء تک حاصل کر لیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کا مقصد مجموعی بینکاری صنعت میں اسلامی بینکاری کے حصے کو 2025ء تک بڑھا کر ایک تہائی کرنا ہے۔

وسیع البنیاد معاشی نمو اور ترقی کو یقینی بنانے کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کو ترجیحی شعبے کی حیثیت دی ہے، اس منصوبے میں اسلامی بینکاری کی جانب سے صارفین کے لیے موثر اور قابل عمل حل کی فراہمی کے لیے اتفاق رائے پر مبنی ایجنڈا اور حکمت عملی دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here