تابش گوہر کو ہی معاون خصوصی برائے پٹرولیم کیوں مقرر کیا گیا؟

195

کراچی: وفاقی کابینہ میں ردوبدل سے کسی کا عہدہ چِھن  گیا تو کسی کو اضافی عہدہ مل گیا، اسی اثناء میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی تابش گوہر کو ندیم بابر کی جگہ مشیر پیٹرولیم کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ندیم بابر کو عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا تھا جب تک وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی فرانزک انکوائری نہیں آتی تب تک ندیم بابر اپنے عہدے سے برطرف رہیں گے فرانزک رپورٹ میں گزشتہ سال پیٹرولیم بحران کے پیچھے وجوہات اور اس کی وجہ بننے والے عناصر کا پتا لگایا جائے گا ندیم بابر کے علاوہ سیکرٹری پیٹرولیم بھی 90 روز تک کے لیے معطل رہیں گے۔

مزید برآں انہوں نے اپنی تعیناتی سے قبل کئی تجاویز جمع کرائی تھیں جو انہوں نے وزارتِ توانائی میں اپنی مدت کے دوران پیش کی تھیں جن پر عملدرآمد نہیں ہوا تھا یا ان کو نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

تابش گوہر کو مشیر پٹرولیم کا اضافی چارج مل گیا

پٹرول بحران: معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

حیران کن بات یہ ہے کہ تابش گوہر نے وزارتِ توانائی میں اپنے محدود دائرہ کار کے علاوہ مداخلت اور غیرضروری لوگوں کے دخل اندازی کرنے کی بنا پر وزیراعظم کو تین ماہ قبل وٹس ایپ کے ذریعے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا، انہوں ںے شکایت کی تھی کہ وہ نہیں جانتے کہ انہیں وزیرتوانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر پیٹرولیم ندیم بابر یا پھر وزیراعظم میں سے کس کو رپورٹ کرنا ہے۔

تابش گوہر نے اپنی تعیناتی کے تین ماہ بعد استعفیٰ کی پیشکش کی تھی۔ تاہم وزیراعظم کی طرف سے استعفیٰ مسترد کر دیا گیا تھا اور گوہر کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اور اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ تابش گوہر کو ترقی دے دی گئی ہے۔

تابش گوہر 7 سال تک کے الیکٹرک میں بطور سی ای او، ڈائریکٹر اور چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے لیکن وہ 2015 میں وہ مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد وہ بجلی و توانائی کے شعبے میں مشاورت اور معاونت دینے کی اپنی کمپنی اوسیس کے بانی و سربراہ بنے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here