اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی اجازت دیدی

ای سی سی کے اجلاس میں گلابی نمک کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ جیوگرافیکل انڈیکیشن کے طور پر رجسٹرڈ کرانے اور نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی

470

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھارت سے چینی، کاٹن اور دھاگا درآمد کرنے، گلابی نمک کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ جیوگرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) کے طور پر رجسٹرڈ کرانے کی منظوری دیدی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات حماد اظہر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، کمیٹی نے رواں سال گندم کی فصل کیلئے کم سے کم امدادی قیمت 1800 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کرنے کی منظوری دیدی۔

کمیٹی نے پاسکو اور صوبائی محکمہ ہائے خوراک کیلئے گندم کی خریداری کے اہداف کی منظوری بھی دی، اجلاس میں مقامی صارفین اور سٹریٹجک ذخائر کی ضروریات کیلئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، بین الحکومتی اور نجی شعبہ کے ذریعہ گندم کی درآمد کی منظوری بھی دی گئی۔

اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کی جانب سے محمود کوٹ فیصل آباد ماچھی کے پائپ لائن کیلئے پارکو کے ٹیرف میں کمی سے متعلق سمری پیش کی گئی، ای سی سی نے موجودہ ٹیرف کے 85 فیصد کی بنیاد پر ٹیرف کی منظوری دی۔

ای سی سی نے وزارت تجارت کے کوٹہ کی سمری کی بنیاد پر 30 جون 2021ء تک بھارت سے زمینی اور سمندری راستے سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کی اجازت دیدی۔ اس فیصلے سے ملکی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں پاکستان کے گلابی نمک (پنک راک سالٹ) کو پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ جیوگرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی منظوری دی گی۔ اس سے گلابی نمک کی ملکی اور بین الاقوامی تجارت میں اضافہ ہو گا، اس نمک کی عالمی سطح پر مانگ بڑھے گی اور قیمت میں بھی اضافہ ہو گا۔

وزارت تجارت کی پیش کردہ برآمدی پالیسی آرڈر 2020ء میں ترامیم سے متعلق سمری کی منظوری دی گئی جس کا مقصد ایک دفعہ استعمال ہونے والے برآمدی سرجیکل آلات کیلئے کم سے کم برآمدی قیمت کے تعین اور ان آلات کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علامت یا  کلر سکیم سے استثنیٰ دینا ہے۔ اب اس طرح کی پراڈکٹ کی سرٹیفیکیشن سیالکوٹ میٹریل ٹیسٹنگ لیبارٹری طبعی اور کیمیائی ٹیسٹوں کی بنیاد پر کرے گی۔

ٹیکسٹائل سیکٹر میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیلئے ای سی سی نے بھارت سے کپاس اور دھاگا درآمد کرنے کی اجازت دیدی، اس کا مقصد ٹیکسٹائل سیکٹر میں خام مال کی طلب اور رسد میں خلیج کو کم کرنا ہے، بھارت سے کاٹن اور دھاگا 30 جون 2021ء تک زمینی اور سمندری راستہ سے درآمد کیا جائے گا۔

اجلاس میں 660 کے وی ہائی وولٹیج مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن کیلئے سیکیورٹی پیکج کی دستاویزات میں ترامیم کی اجازت دی گئی، اس حوالہ سے سمری پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

وزارت صنعت و پیداوار کی سفارش پر ای سی سی نے پاکستان سٹیل ملز کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے توسیع کردہ دو ارب 52 کروڑ 20 لاکھ روپے کی سہولت سے متعلق لیٹر آف کریڈٹ کیلئے حکومت پاکستان کی گارنٹی کے اجراء کی منظوری دی۔

اجلاس میں سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2020-25ء سے متعلق فیصلہ موخر کر دیا گیا تاہم وزارت تجارت کی درخواست پر نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں بنیادی تعلیم کیلئے کمیونٹی سکولز کے قیام اور انہیں چلانے کیلئے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کیلئے 63 کروڑ روپے، مختلف تعلیمی اداروں اور ایجوکیشن دفاتر کو چلانے کیلئے 37 کروڑ روپے، تین ہزار افغان طلبا کیلئے علامہ اقبال سکالرشپ کے ضمن میں 60 کروڑ روپے ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے سندھ میں مختلف سکیموں کیلئے وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کیلئے 12 کروڑ 87 لاکھ روپے، کم لاگت گھروں کی تعمیر کیلئے دو ارب روپے، کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری کی نئی عمارت کیلئے 45 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اسی طرح  پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 1.2 ارب روپے، مالی سال 2016.17 میں ویٹ فریٹ سبسڈی سکیم کی ادائیگی کے ضمن میں دو کروڑ 25 لاکھ 90 ہزار روپے، نجکاری کمیشن کے مختلف اخراجات کیلئے چار کروڑ 91 لاکھ 89 ہزار روپے، سندھ میں گیس ڈویلپمنٹ منصوبوں کیلئے وزارت توانائی کیلئے پانچ کروڑ روپے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔

وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کی پریس کانفرنس

ای سی سی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں چند اہم فیصلے کئے گئے، کمیٹی نے بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی منظوری دی ہے کیونکہ پاکستان میں برآمدی شعبہ کیلئے کپاس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے بھارت کے علاوہ پوری دنیا سے کپاس درآمد کرنے کی اجازت دی تھی تاہم اب وزارت تجارت کی سمری پر بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے، رواں سال جون کے آخر تک بھارت سے کاٹن کی درآمد کو کھولیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ چینی کی فراہمی کی صورت حال کو بہتر کرنے کیلئے بھارت سے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا۔ حکومت نے گزشتہ سال ایک لاکھ ٹن اور نجی شعبہ نے ڈیڑہ لاکھ ٹن چینی درآمد کی تھی، رواں سال بھارت اور پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک فرق ہے، اس لئے بھارت سے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وبا کے بعد پوری دنیا میں مہنگائی کی لہر آئی ہے، پاکستان میں بھی چینی، آٹا اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بطور وزیر خزانہ مجھے اور حکومت کی پوری اقتصادی ٹیم کو احساس ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یورو بانڈز کے اجراء سے بہت کامیابی ملی ہے، یورو بانڈز کیلئے پانچ ارب ڈالر کی بولیاں آئی تھیں، پاکستان کو مسابقتی قیمت ملی ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی مشاورت کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ روپے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لٹر کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، اس سے گندم کے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

آئی ایم ایف سے متعلق ایک سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف سے پچاس کروڑ ڈالر کی نئی قسط وصول کر لی ہے، اس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈیرھ ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان کے مطابق تین چیزیں رہ گئی ہیں جو جون تک مکمل کر لیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ایکشن پلان بھی چل رہا ہے، ہم پوری محنت سے آگے جا رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ سے متعلق سوال پر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اس پر پارلیمان فیصلہ کرے گا اور متعلقہ فریقین کی تجاویز کو مدنظر رکھا جائے گا تاہم جو سنسنی پھیلائی جا رہی ہے وہ درست نہیں۔ ماضی میں بھی سٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بعض سخت فیصلے بھی کئے ہیں، سخت اور بڑے فیصلوں کے بغیر قومیں آگے نہیں بڑھتیں، درست فیصلہ بڑا اور سخت ہو سکتا ہے تاہم ہمارا ہر فیصلہ اور ہر پالیسی پاکستان کی ترقی اور عام آدمی کی حالت زار میں بہتری کی بنیاد پر استوار ہے اور رہے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here