حفیظ شیخ کی چُھٹی، حماد اظہر کو نیا وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ

437

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور اقتدار کے دوسرے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ حماد اظہر کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ہٹانے کی تصدیق کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ انہیں (حفیظ شیخ) ملک میں جاری مہنگائی کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کو وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے تمام امور کل (منگل) تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

شبلی فراز کے مطابق ’وزیراعظم مہنگائی کے حوالے سے مطمئن نہیں تھے، انہیں غریبوں کا بہت خیال رہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں بنائی جائیں، اب ایک نئی ٹیم نئے عزم کے ساتھ کام کرے گی، امید ہے حماد اظہر کے آنے سے غریبوں کو ریلیف ملے گا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ میں نئی ٹیم اور نیا وزیر نئی سوچ لے کر آئیں گے اور اس سے مثبت نتائج کی امید کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ کے مستقبل کے بارے میں علم نہیں۔

یاد رہے کہ اپریل 2019ء میں وفاقی حکومت نے اسد عمر کو ہٹا کر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ کی ذمہ داری تفویض کی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں وزیراعظم کے مشیران  پر سرکاری اجلاسوں کی صدارت کرنے کی پابندی لگا دی تو عبدالحفیظ شیخ کو دسمبر 2020ء میں وفاقی وزیر خزانہ کی حیثیت سے کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔

آئین پاکستان وزیراعظم کو کسی غیر منتخب شخص کو چھ مہینے کے لیے کابینہ میں شامل کرنے کا اختیار دیتا ہے، اور آئینی اختیار کے تحت وزیراعظم عمران خان نے عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر خزانہ بنایا جن کی مدت رواں سال جون میں پوری ہو رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے حفیظ شیخ کو اسلام آباد سے سینیٹر منتخب کرانے کی بھی کوشش کی تاکہ وہ کابینہ کا حصہ رہ سکیں لیکن انہیں پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی پالیسیوں اور سٹیٹ بینک کی خود مختاری کے حوالے سے کابینہ میں تحفظات پائے جاتے ہیں جو عبدالحفیظ شیخ کو ہٹائے جانے کی وجہ بنے۔

بعض ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ میں مزید ردو بدل کا فیصلہ بھی کیا ہے جس کے تحت وزارت اطلاعات و نشریات، پیٹرولیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں تبدیلیاں ہو سکتی ہے۔

اُدھر حفیظ شیخ کی برطرفی کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایم ایف کے وزیر کو وزارت پر برقرار رہنے کے لیے سینیٹر منتخب ہونا ضروری تھا اور سینیٹ میں شکست نے اس کو ناممکن بنا دیا۔

بلاول بھٹو نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اب حکومت تسلیم کر رہی ہے کہ اس کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، اس حکومت کے خلاف پارلیمانی سیاست بہت زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here