وفاقی کابینہ سے 58 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ

ملک میں کل 66 کمپنیوں کے پاس تیل کی مارکیٹنگ کا لائسنس موجود، 8 کمپنیاں 92 فیصد مارکیٹ شئیر کی مالک ہیں، باقی کمپنیوں کی جانب سے غیرقانونی سرگرمیوں اور تیل سمگلنگ میں ملوث ہونے کا خدشہ

478

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے وفاقی کابینہ سے 58 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کیخلاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ندیم بابر نے آگاہ کیا کہ ملک میں اس وقت کل 66 آئل کمپنیوں کے پاس مارکیٹنگ کا لائسنس موجود ہے جن میں سے 8 کمپنیاں 92 فیصد مارکیٹ شئیر کی مالک ہیں لہٰذا یہ دیکھا جانا چاہیے آیا کہ باقی کمپنیاں غیرقانونی سرگرمیوں اور تیل سمگلنگ میں ملوث تو نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک  پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کسی کمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی لیکن اوگرا نے صوبائی لائسنس رکھنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کام کی اجازت دے دی ہے۔

اس سے پہلے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پٹرولیم ڈویژن کی درخواست پر تیل کمپنیوں اور ڈیلرز کیلئے ہائی سپیڈ ڈیزل اور موٹر سپرٹ کے مارجن میں نظرثانی کرنے کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: 

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کا مارجن طے کرنے کیلئے کمیٹی قائم

حکومت نے نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر پابندی عائد کردی

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اکثر ارکان نے رائے دی تھی کہ حکومت او ایم سیز کے مارجن پر وقتاََ فوقتاََ نظرثانی کیلئے قانون کی پابند ہے اور مارجن میں اضافہ محض پٹرولیم کمیشن کی رپورٹ کا سہارا لے کر نہیں کیا جا سکتا۔

ای سی سی نے او ایم سیز کو پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر مارجن میں 17 پیسے اضافہ کرنے کی اجازت دی تھی جبکہ ڈیلرز کو پٹرول کی فروخت پر مارجن میں 22 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فروخت پر مارجن میں 19 پیسے اضافے کی اجازت دی تھی۔

اس کے برعکس پٹرولیم ڈویژن نے ای سی سی کو تجویز دی تھی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے موٹر سپرٹ اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر مارجن میں 45 روپے فی لٹر اضافہ کیا جائے جبکہ ڈیلرز کیلئے موٹر سپرٹ پر 58 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 50 پیسے اضافہ کیا جائے۔

تاہم ای سی سی نے عبوری طور پر مارجن میں 6 فیصد اضافہ کر دیا جس کے مطابق مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول اور ڈیزل پر 2.98 روپے اضافی چارج کرنے کی اجازت دی گئی جو پہلے 2.81 روپے چارج کر رہی تھیں، یوں مارجن میں 17 پیسے اضافہ کر دیا گیا۔ ڈیلرز کو پٹرول پر 3.70 روپے کی بجائے 3.92 روپے اور ڈیزل پر 3.12 روپے کی بجائے 19 پیسے اضافے سے 3.31 روپے چارج کرنے کی اجازت مل گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مارجن متعین کرنے کے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کیلئے معاون خصوصی ندیم بابر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کر دی جس کے ذمے تمام سٹیک ہولڈرز کے مفادات کو مدنظر رکھ کر لائحہ عمل ترتیب دینے کا کام لگایا گیا۔

اس کے علاوہ پٹرول ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) نے بھی پٹرولیم ڈویژن سے درخواست کی ہے کہ مارجن میں اضافے سے انکار کرنے یا اسے ملتوی کرنے کی بجائے موجودہ حالات اور مہنگائی کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے فارمولے کے مطابق چلا جائے تا آنکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامک کی تجاویز سامنے آ جائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here