پی ٹی اے نے ٹک ٹاک پر پانچ لاکھ قابل اعتراض ویڈیوز ہٹا دیں

188

لاہور: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پانچ لاکھ قابلِ اعتراض ویڈیوز تک رسائی کو بلاک کر دیا۔

ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے سماعت کی، پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے دورانِ سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید خان کو بتایا کہ ٹیلی کام ریگولیٹر قابلِ اعتراض مواد پر ٹک ٹاک کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی اے ٹک ٹاک کو سختی سے مانیٹر کر رہی ہے اور ملک بھر میں اب تک پانچ لاکھ کے قریب نازیبا ویڈیوز ہٹا دی گئی ہیں۔ حالانکہ امریکا، چین اور دیگر ممالک کے پاس ٹک ٹاک کے مواد کو فلٹر کرنے کے زرائع موجود نہیں ہیں۔

اس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ اگر ٹک ٹاک خالص انٹرٹینمنٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کی جائے تو عدالت اسے سراہے گی تاہم عدالت ملک میں غیراخلاقی اور غیراسلامی ویڈیوز کو پھیلانے کی اجازت ہرگز نہیں دے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

ہمارے معاشرے کیلئے قابل قبول نہیں، ٹک ٹاک پر ایک بار پھر پابندی عائد

ٹک ٹاک کا ویڈیوز لائیو سٹریم کرنے کا فیصلہ، یو ایف سی کیساتھ معاہدہ

یاد رہے کہ 11 مارچ 2021ء کو پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ جب تک ٹک ٹاک اپنے مواد کو فلٹر کرنے کا طریقہ کار متعارف نہیں کراتی اس وقت تک پاکستان میں اس ایپ پر پابندی عائد رہے گی کیونکہ غیراخلاقی ویڈیوز کے ذریعے معاشرتی روایات کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

عدالتی حکم کے پیش نظر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو شہریوں کی ٹک ٹاک تک رسائی کو جلد بلاک کرنے کی ہدایت کی تھی، ملک بھر میں اس وقت صارفین کے لیے ایپ تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

عدالتی بینچ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ایپلی کیشن صرف انٹرٹینمنٹ مقاصد کے لیے ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک نشہ بنتی جا رہی ہے اور نوجوان نسل اس کا بری طرح شکار ہو رہی ہے، مزید یہ کہ ٹک ٹاک ایپ سے متاثر ہو کر ملک میں کچھ نوجوانوں کی طرف سے خودکشی کی کوشش بھی کی گئی۔”

عدالت نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کے حل کیلئے کا لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here