لینڈ آٹومیشن کے ذریعے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو آٹھ ماہ میں 7.4 ارب روپے آمدن

178

لاہور: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پی ایل آر اے) کو لینڈ ٹرانسفر اینڈ مینجمنٹ سسٹم کے تحت 7 ارب 45 کروڑ روپے آمدن ہوئی ہے۔

پرافٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب لینڈ ریکارڈ اٹھارٹی نادیہ احمد نے بتایا کہ لینڈ ریکارڈ سسٹم میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے اس محکمے کی آمدن میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ اتھارٹی نے دو سال قبل تحصیل کی سطح پر اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا سلسلہ شروع کیا تھا، ابتدائی طور پر 152 لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے ذریعے یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔

نادیہ احمد کے مطابق لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ میں کمپیوٹرائزیشن کے استعمال سے بہتری آنے کی وجہ سے اس کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے اور اب اراضی ریکارڈ سینٹرز کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ان مراکز میں 60 قانون گوئی سیٹلائٹ مراکز، 2800 سے زائد نادرا ای سہولت سینٹرز، 10 ای سروس سینٹرز اور 28 کمرشل بینک شامل ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ پنجاب کہ دوردراز کے علاقوں میں 10 موبائل لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے، آئندہ کچھ روز میں 10 مزید موبائل لینڈ ریکارڈ سینٹرز کا آغاز کیا جائے گا۔

ترجمان پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے کہا کہ آٹومیٹڈ سسٹم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔ باہر مقیم پاکستانیوں کو سہولیات دینے کے لیے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے پاکستانی سفارت خانوں میں بھی ان سہولیات کا آغاز کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں نادیہ احمد کا کہنا تھا کہ آن لائن فرد سسٹم کے ذریعے اب تک 65 ہزار افراد کو سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، جاز کیش اور ایزی منی کے ذریعے آن لائن ادائیگی کا نظام بھی شروع کیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مالی سال 2021ء کے پہلے 8 ماہ (جولائی تا فروری) کے دوران لینڈ ٹرانسفر کی مد میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کو 7 ارب 45 کروڑ روپے آمدن ہوئی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here