گلگت بلتستان کیلئے 250 ارب کا ترقیاتی پلان، اعلان جلد متوقع

290

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان کے لیے 250 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا جلد اعلان کریں گے۔

وفاقی حکومت کی تشکیل دی گئی اپیکس کمیٹی نے گلگت بلتستان کے لیے ترقیاتی پلان کی تجاویز مرتب کر لی ہیں جس کے بعد وزیراعظم جلد تاریخی پیکیج کا اعلان کریں گے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی نے پانچ سالہ (2021ء تا 2026ء) ترقیاتی پیکج کے تحت کم از کم 57 منصوبوں کی تجویز دی ہے جس میں کچھ منصوبے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں، کئی منصوبوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں اور کچھ نئے منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں، ان منصوبوں کو مرکزی حکومت کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے ذریعے فنڈ کیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرِصدارت منعقد ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات سے بارے بتایا کہ “وزیراعظم گلگت بلتستان کے لیے پانچ سالہ (2021-26ء) ‘سماجی و معاشی ترقی کے منصوبے’ کی جلد منظوری دیں گے جس کے پیش نظر ترقیاتی پیکیج کی تفصیلات شئیر کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

سٹیٹ بینک کا گلگت میں برانچ کھولنے کا فیصلہ

گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کیلئے فور جی نیلامی کا فیصلہ

اپیکس کمیٹی نے ان منصوبوں کی کاغذی کارروائی کو حتمی شکل دے دی ہے اور سمری آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کر دی جائے گی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج کے اعلان کیلئے گلگت بلتستان کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

ترقیاتی پلان میں سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی ڈی) اور نان نان پی ایس ڈی پی کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نے تحت مکمل ہونے والے منصوبے بھی شامل ہیں جن پر گلگت بلتستان حکام اور وفاقی وزراء کے درمیان مشاورت کی گئی۔

پلان کے تحت علاقے میں شفاف توانائی اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی، اس کے علاوہ صحت، تعلیم، سکلز ڈویلپمنٹ، سیاحت، پرائیویٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ، زراعت، خواتین کی ترقی، سماجی فلاح و بہبود اور نوجوانوں سے متعلق منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

پیکیج کے اعلان کا مقصد گلگت بلتستان کے شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرکے سماجی و معاشی ترقی کے فروغ اور خطے کی معیشت کے امکانات کو روشن کرنا ہے۔

پرافٹ اردو کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں 104.6 ارب روپے جبکہ شفاف توانائی اور آف گرڈ سولوشنز کے لیے 86.3 ارب روپے کے منصوبوں کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح، منرلز، ٹریڈ اور کامرس کے شعبہ جات کے منصوبوں کے لیے 9.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انسانی وسائل کی ترقی بشمول صحت، تعلیم اور سکلز ڈویلپمنٹ کے لیے 29.4 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، سیاحت اور اس سے منسلک سہولیات کی فراہمی کے لیے 5.4 ارب روپے، ماحولیاتی تبدیلی پر 13 ارب روپے اور زراعت کے جڑے کاروباروں کی ترقی کے لیے 1.3 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

250 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج میں سے سالانہ ترقیاتی پلان کے ذریعے 47.7 ارب روپے، پی ایس ڈی پی کے ذریعے 91.7 ارب روپے خرچ ہوں گے جبکہ بقیہ کے 110.5 ارب روپے کی رقم وفاقی حکومت وزارتِ امور کشمیر و گلگت بلتستان (فیڈرل پی ایس ڈی پی) کے تحت فراہم کرے گی۔

تاہم ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی ایسے منصوبے بھی اس پیکیج کا حصہ ہیں جنہیں مختلف فورمز کی جانب سے پہلے سے ہی منظور کیا جا چکا ہے اور کئی منصوبے محض فنڈنگ ملنے کے منتظر ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت نے گلگت بلتستان میں گزشتہ سال نومبر 2020ء میں الیکشن مہم کے دوران ترقیاتی پیکیج کا وعدہ کیا تھا، اس لیے جنوری 2021ء میں حکومت نے جی بی کے لیے ایک بڑے پیکیج پر کام شروع کردیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here