کراچی ریڈ لائن پروجیکٹ کیلئے فرانس 12.3 ارب روپے قرض دے گا

134

اسلام آباد: فرانسیسی حکومت نے کراچی میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن پروجیکٹ کے لیے 12.3 ارب روپے (65 ملین یوروز) کا قرض فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

اس حوالے سے پاکستان میں فرانس کے سفیر مارک باریٹے اور فرانسیسی ایجنسی برائے ڈویلپمنٹ (اے ایف ڈی) کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری نور احمد کے ساتھ کریڈیٹ فنانسنگ ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔

اس منصوبے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، ایشین انفراسٹرکچر بینک، گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) اور فرانسیسی ایجنسی برائے ڈویلپمنٹ مشترکہ طور پر مالی معاونت فراہم کریں گے۔

حکام کے مطابق ریڈ لائن منصوبے کو بلا رکاوٹ اور مربوط آپریشنز کے لیے نمائش سٹیشن پر گرین لائن پروجیکٹ کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے جہاں سے ریڈ لائن بس سروس کو میری ویدر ٹاور تک ایک ہی کوریڈور پر چلایا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے حاصل ہونے والی 12.3 ارب روپے کی مالی معاونت ترقیاتی اداروں کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد بلا تفریق شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کیلئے حقیقی کاوشیں کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کراچی میں ٹرام سروس دوبارہ شروع کرنے پر کام جاری

چینی کمپنی کراچی میں ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 600 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گی

فرانسیسی سفارت خانے نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ “پاکستان میں یہ شہری ترقی کا مشترکہ طور پر شروع کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے۔

اس پروجیکٹ کے تحت کراچی میں 26.6 کلومیٹر بس ریپڈ ٹرانزٹ کوریڈور کی تعمیر سمیت 24.2 کلومیٹر طویل ریڈ لائن کوریڈور اور 2.4 کلومیٹر کامن کوریڈور بھی تعمیر کیا جائے گا، اس کے ساتھ فیڈر اور سروس رُوٹس بھی اس میں شامل ہیں۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بائیو میتھین ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی حامل بسیں چلیں گی جس سے منفی ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی، یوں یہ 26.6 کلومیٹر کوریڈور انفراسٹرکچر کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ کا ایک اعلیٰ نمونہ ہو گا، یہاں

سے ایک طرف یہ منصوبہ کئی لحاظ سے انوویٹو ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، بائیو میتھین ہائبرڈ بس ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنے اور ایک وقف شدہ ویسٹ میتھانائزیشن پلانٹ کے ذریعے چلایا جائے گا۔

یہاں ویسٹ میتھانائزیشن پلانٹ بھی لگایا جائے گا یوں اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو محدود کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here