پاکستانی بچوں کی ایک خاص نسل کے لئے باٹا وہ پہلا اسٹور ہے جو اُنہیں یاد ہے۔ درحقیقت پرافٹ کی اس رپورٹر نے سکول کی تعلیم کا آغاز باٹا کے بی فرسٹ شوز پہن کر ہی کیا تھا اور بچپن میں راقم کے پاس اسی کمپنی کے ببل گمرز سینڈل موجود تھے۔

جوتے بنانے والے اس برانڈ کی پاکستانیوں کی زندگی میں موجودگی اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ حیرانی کی بات ہے کہ باٹا پاکستانی کمپنی نہیں اور یہ کہ اس کا قیام چیک ریپبلک میں عمل میں آیا اور فی زمانہ اس کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے ہے۔

باٹا تقسیم ہند سے قبل کام کرنے والی ایک بڑی، بین الاقوامی اور بہترین معیار کے سستے جوتے فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کی مصنوعات معاشرے کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرنے والی چیزوں میں سے ایک ہیں۔ سکول شوز اور جوگرز سے لے کر روزمرہ پہنے جانے والے چپل اس کی وہ مصنوعات ہیں جو نسلوں کے اجتماعی شعور میں محفوظ ہیں۔

مگر بین الاقوامی طور پر ایک صدی سے زائد اور برصغیر میں 80 سالہ تاریخ رکھنے کے باوجود باٹا کی کہانی غیر ضروری طور پر پیچیدہ نہیں، یہ مستقل مزاجی اور درست وقت پر جدت کی کہانی ہے۔ کمپنی کی کارپوریٹ تاریخ میں پاکستان میں اس کی کامیابی کا خاص مقام ہے جہاں وہ ایک مشہور برانڈ کی حیثیت سے اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اب بھی معیاری مصنوعات ناصرف تیار کرتی ہے بلکہ ان کی زیادہ سے زیادہ فروخت میں بھی کامیاب ہے۔

گزشتہ سال سے پہلے تک باٹا کی کارکردگی غیرمعمولی طور پر بہترین رہی۔ کمپنی کی جانب سے 31 دسمبر 2020ء کو ختم ہونے والے سال کے مالیاتی نتائج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو رواں برس 26 فروری کو جمع کروائے گئے جو سب کے لیے شدید حیرانی کا سبب بنے۔ ان نتائج کے مطابق کمپنی نے 62 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ظاہر کیا جو 2007ء کے بعد پہلا اور واحد نقصان تھا۔ اس کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ باٹا کے ساتھ آخر ہوا کیا؟ اس وال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ کووڈ-19 نے باٹا کی مالیاتی کارکردگی کو متاثر کیا، اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ کمپنی کو ہونے والا نقصان کتنا بڑا اور حیران کن ہے، آئیے اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

1894ء میں چیکو سلواکیہ میں ٹوماس (Tomas)، انا (Anna) اور انٹونن باٹا (Antonin Bata) نے مل کر باٹا شو کمپنی کی بنیاد رکھی، ان کا خاندان آٹھ نسلوں سے جوتا سازی سے منسلک چلا آ رہا تھا۔

اس زمانے میں جب جوتے صرف چمڑے سے بنائے جاتے تھے، ان بھائیوں نے باٹوکا (Batovka) نام کا پہلا جوتا چمڑے اور کینوس سے بنایا۔ ان کی اِس پراڈکٹ کا خوب شہرہ ہوا اور یہی جوتا نوزائیدہ کمپنی کی کامیابی کی بنیاد بنا۔ 1930ء کی دہائی تک کمپنی یورپ بھر میں کارخانے اور سٹور قائم کر چکی تھی، 1931ء میں باٹا ہندوستان میں داخل ہوئی اور مغربی بنگال میں اس نے باٹا نگر کے نام سے ایک صنعتی علاقہ قائم کیا۔ آج یہ کمپنی حجم کے لحاظ سے جوتے بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے جو دنیا بھر میں قائم اپنے پانچ ہزار 300 سٹورز پر روزانہ تقریباً دس لاکھ گاہکوں کو خدمات مہیا کر رہی ہے۔

وہ علاقے جن پر اب پاکستان مشتمل ہے، یہاں باٹا کا پہلا آؤٹ لیٹ 1942ء میں کُھلا۔ یہ محض ایک سٹور تھا جو آزادی کے بعد 1951ء میں رسمی طور پر باٹا شو کمپنی (پاکستان) لمیٹڈ میں تبدیل ہو گیا، 1979ء میں یہ باٹا پاکستان لمیٹڈ کے طور پر پبلک ہو گئی۔ آج ملک میں کمپنی کا ریٹیل نیٹ ورک 467 آؤٹ لیٹس اور 331 رجسٹرڈ ہول سیل ڈیلرز پر مشتمل ہے۔

پاکستان میں کمپنی نے خاص باٹا چپل متعارف کروائی جو مارکیٹ میں دستیاب سینڈلز کا ایک سستا ورژن تھا۔ روزمرہ استعمال، سکول اور بچوں کے مخصوص جوتے کمپنی کے لیے کامیابی کی کلید بنے۔ ہر سال ماہ اگست میں بچوں کو سکول کے لیے کالے اور سفید پی ٹی کینوس جوتے خریدنے ہوتے ہیں اور اس کے لیے آپشنز محض سروس یا باٹا ہیں۔ حیرن کن طور پر بچوں کے معیاری اور مناسب دام والے جوتوں کی خریداری کے لیے آپشنز محدود ہیں اور باٹا اس ضمن میں ایک ایسے سٹور کی حیثیت رکھتا ہے جو بچون کے لیے ایسے جوتے بناتا ہے جو آرام دہ ہوتے ہیں۔

روایتی اور سستے سکول شوز اور سلیپرز کے علاوہ باٹا میری کلیر (Marie Claire) برانڈ کے

تحت خواتین کے جوتے، پاور برانڈ نام سے کھیلوں کے جوتے، ببل گمرز کے نام سے بچوں کے لیے اور باٹا کمفرٹ کے نام سے عام چہل قدمی وغیرہ کیلئے جوتے تیار کرتی ہے، اس کے علاوہ کمپنی سٹار سنیکرز اور وائن برینر(Weinbrenner) کے نام سے بھی جوتے فروخت کرتی ہے۔

اس فارمولے نے کمپنی کو بہت فائدہ پہنچایا ہے ، 2007ء اور 2012ء کے درمیانی عرصے میں اس کی سیل 3.9 ارب روپے سے بڑھ کر 11.5 ارب روپے تک پہنچ گئی اور یوں کمپنی ان چند ریٹیل کمپنیوں میں سے ایک بن گئی جن کا ریونیو 10 ارب روپے سے زائد ہے۔  2019ء میں کمپنی کی سیل 17.4 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح کمپنی کی خالص آمدنی 2007ء کی 35 کروڑ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2012ء میں ایک ارب روپے اور 2018ء میں ڈیڑھ  ارب روپے تک پہنچ گئی۔

تاہم 2019ء میں کمپنی کی کمائی کم ہو کر ایک ارب 9 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی اس کی وجہ انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈز کو نا اپنانا تھا۔

مگر ایسا ہونے کی بڑی وجہ اس برس IFRS سٹینڈرڈ کو اپنانے میں کی جانے والی تبدیلی کی وجہ سے ہوا۔

یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دراصل باٹا اپنی آمدنی کے حوالے سی پراُمید تھی۔ کمپنی اپنی روایتی مصنوعات کو خیرباد کہہ کر جدید رجحانات کو اختیار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس ضمن میں کمپنی نے ‘سرپرائزنگلی باٹا’ مہم کا آغاز کیا اور اس مقصد کے لیے اس نے معروف اداکاروں شہریار منور اور مایا علی کو اپنا برانڈ ایمبیسڈر بنایا۔

اس کے بعد کورونا وائرس کی عالمگیر وبا پھوٹ پڑی جو باٹا کے لیے اصل ‘سرپرائز’ ثابت ہوئی۔

گزشتہ سال پرافٹ کو دیے گئے انٹرویو میں باٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عمران ملک نے کمپنی میں مستقبل کی تبدیلیوں کے حوالے سے بتایا تھا مگر کووڈ-19 کی وجہ سے سب کچھ رُک گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 نے ریٹیل کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے جس کا نتیجہ منفی سیلز اور دنیا بھر میں ریٹیل بزنس کے منافع میں واضح کمی کی صورت نکلا ہے۔ کورونا کے ساتھ معمول کی زندگی کو رواں رکھنا لوگوں کے طرز حیات، خریداری کے طور اطوار اور ترجیحات کو مکمل تبدیل کر دے گا۔

سال 2020 ء میں کمپنی کی سیل کم ہو کر 2012ء  والی سطح پر چلی گئی جس کے نتیجے میں اس وقت کے بعد سے حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ختم ہو گئیں۔ گزشتہ سال کمپنی کو 62 کروڑ 70  لاکھ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا جو 2007ء کے بعد پہلی مرتبہ ہوا تھا۔

یہ خسارہ کیوں ہوا؟ اس کا جواب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ سخت لاک ڈاؤن، وباء اور اس کے معاشی اثرات کے دور میں عام آدمی کے ذہن میں جوتوں کی خریداری کا خیال سب سے آخر میں آتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب طویل عرصہ تک سکول بند رہے جس کی وجہ سے باٹا اتنے جوتے نہیں فروخت کر سکی جتنے وہ معمولی حالات میں کرتی تھی۔

وبا کے دوران برانڈز نے اپنی مصنوعات کو آن لائن فروخت کرنے اور ای کامرس پر بھی توجہ دی، یہ وہ چیز تھی جس کے بارے میں عمران ملک پہلے ہی اشارہ کر چکے تھے۔ مگر باٹا ان (کاروباروں) میں سے نہیں جن کے بارے میں لوگ انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہیں بلکہ لوگ اب بھی اس کی مصنوعات کی خریداری روایتی طریقے سے کرتے ہیں۔

ویکسین کی دریافت، سکول کھلنے اور لوگوں کے گھروں سے نکلنے اور معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹنے کی کی وجہ سے ممکن ہے کہ باٹا کے لیے بھی معاملات دوبارہ معمول پر آ جائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here