وبا کے دوران جنگلات کی کٹائی میں اضافہ کیوں ہوا؟

سال 2020ء کے دوران 9.3 ملین ایکڑ رقبہ پر مشتمل جنگلات کاٹے گئے ہیں، سب سے زیادہ درختوں کی کٹائی برازیل، جمہوریہ کانگو اور انڈونیشیا ہوئی: گلوبل فاریسٹ واچ

242
Normal scene in the Amazon

اسلام آباد: گلوبل فاریسٹ واچ (جی ایف ڈبلیو) نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کی وبا کے باعث گزشتہ سال 2020ء کے دوران 93 لاکھ ایکڑ رقبہ پر جنگلات کاٹے گئے ہیں۔

گلوبل فاریسٹ واچ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کے دوران برازیل، جمہوریہ کانگو اور انڈونیشیا میں سب سے زیادہ جنگلات کاٹے گئے۔

کورونا و ائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے 2020ء میں تعمیراتی لکڑی کی طلب میں کمی کے باوجود جنگلوں کی زیادہ کٹائی کی گئی کیونکہ وبا کے باعث بڑے شہروں میں کام کرنے والے کارکنوں کے روزگار ختم ہو گئے تو وہ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ گئے جس کی وجہ سے جلانے والی لکڑی کی طلب بڑھنے سے جنگلات کا صفایا ہوتا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان زیتون کی کاشت سے سپین کے مقابلے میں زیادہ خوردنی تیل برآمد کر سکتا ہے

اب 10 بلین ٹری سونامی، سی پیک روٹ کیساتھ ماحولیاتی اثرات کی نگرانی سیٹلائٹ سے ہو گی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ کرہ ارض پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا ایک تہائی حصہ درخت جذب کرتے ہیں، وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی جذب کرتے ہیں اور آکسیجن کے اخراج کا بڑا ذریعہ ہیں تاہم لکڑی جلانے کے نتیجہ میں خارج ہونے والی کاربن دوبارہ ہوا میں شامل ہو جاتی ہے۔

جی ایف ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنگلات ارد گرد کی رہاشی آبادئیوں کو خوراک اور روزگار کی فراہمی کے لئے اہم ہیں اور جنگلی حیات کے لئے بھی انتہائی ضروری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے بعض ممالک کی حکومتوں نے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے ماحولیاتی قوانین مین نرمی کی ہے تاکہ معاشی ترقی حاصل کی جا سکے جس کے نتیجہ میں جنگلات میں کمی ہوئی ہے۔

اسی طرح کووڈ۔19 کے باعث معاشی مسائل کی وجہ سے بجٹ کٹوتیوں کے نتیجہ میں جنگلات، ماحولیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں کمی بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔

جی ایف ڈبلیو نے عالمی برادری پرزور دیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی کے عمل کو روکنے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here