لاہور کی صفائی کیلئے تین ارب روپے کی اضافی مشینری خریدنے کی منظوری

شہریوں سے سینی ٹیشن فیس وصول کرنے، 50 کروڑ کے 6 ہزار نئے کنٹینرز اور ورکرز کیلئے دس ہزار یونیفارم خریدنے، تین ہزار سینٹری ورکرز بھرتی کرنے کی بھی منظوری دی گئی

365

لاہور: لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے صوبائی دارالحکومت میں صفائی کے لیے تین ارب روپے سے زائد کی اضافی مشینیری خریدنے کی منظوری دے دی۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 113واں اجلاس مرکزی دفتر میں ہوا جس کی سربراہی بیرسٹر عامر ظفر نے کی جبکہ دیگر اراکین میں سیکٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل، ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک، ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر کرامت اللہ چوہدری، سی ای او ایل ڈبلیو ایم سی عمران علی سلطان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں شہر کی صفائی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں 14 نکاتی ایجنڈہ منظوری کے لیے پیش کیے گئے جس میں لاہور شہر کی صفائی کے لیے 3 ارب 86 لاکھ  سے زائد کی اضافی مشینری کی خریداری کی منظوری دی گئی۔

پرائمری کولیکشن کے لیے اضافی مشینری ترجیحی بنیادوں پر خریدی جائے گی جبکہ سیکنڈری کولیکشن کے لیے 3 سالہ معاہدہ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح 50 کروڑ روپے کے 6 ہزار نئے کنٹینرز خریدنے، ایک کروڑ روپے کے بجٹ میں ورکرز کیلئے دس ہزار نئے یونیفارم خریدنے اور تین ہزار سینٹری ورکرز بھرتی کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔

دیگر فیصلوں میں ارفعہ کریم ٹاور کے قریب عارضی کولیکشن پوائنٹ کو ختم کرکے پارک میں تبدیل کرنے، ادارے کی مکینیکل صلاحیت بڑھانے، ایل ڈبلیو ایم سی کے کوڑے سے کھاد تیار کرنے کے پلانٹ کو بحال کرنا، شہر کی صفائی کے لیے سینی ٹیشن فیس مختص اور وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سیکریٹری بلدیات نوراالامین مینگل نے ایجنڈے کے نکات کو واضع کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ ایک نئے عزم اور جدید تکنیک کے ساتھ بہت جلد شہریوں کو صفائی کا ایک موثر نظام دینے جا رہا ہے اس امر کو یقینی بنانے کے لیے طویل المیعاد معاہدے کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکنڈری ویسٹ کلیکشن کے چھ ماہ کے عبوری معاہدے کے بجائے تین سالہ معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ سکینڈری ویسٹ کلیکشن کے مختصر مدت کے معاہدے بھی صفائی ستھرائی کی صورتِ حال کی خرابی کا سبب بن رہے تھے، اس مسئلے کے حل کے لیے تین سالہ معاہدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

نورالامین مینگل نے کہا کہ رواں ماہ میں کیے جانے والے معاہدے کے ذریعے اضافی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گیا اور ادارہ جو روزانہ کی بنیاد پر 1500 سے 2000 ٹن کوڑا اٹھا رہا تھا، اب روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ 6500 ٹن کوڑا شہر سے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ بہترین صفائی کی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے درکار اضافی مشینری پر تقریباََ چار ارب کی لاگت آئے گی جس کی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں دے دی گئی ہے، نو سو سے زائد آپریشنز وہیکلز جلد از جلد خرید لی جائیں گی۔

سیکریٹری بلدیات نے مزید کہا کہ ٹرانسفر سٹیشن کے گرد چار دیواری کی منظوری دے کر شہریوں کو تعفن اور گندگی کے پھیلائو سے بچانے کی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے۔ مزید تجاویز جو منظور کی گئیں ان میں ایک سو دس ارب کے طویل مدتی پلان کی لاگت کو کم کرنے کے لیے مشینری کو لوکل کنٹریکٹرز سے بنوانے اور جدید ٹیکنالوجی کو مد نظر رکھتے ہوئے پلان پر کام کرنے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے میں کرپشن اور گھوسٹ ملازمین کے بارے میں ہونے والی چہ مگوئیوں اور اعتراضات کو دور کرنے کے لیے ویجیلینس وِنگ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جن کے رپورٹنگ سسٹم سے تمام کرپٹ عناصر جو کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوث ہوں گے انہیں نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ نوکری سے فارغ کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید براں سوشل موبلائزر ٹیموں کی مدد سے مختلف مکتبہ فکر اور عام شہریوں میں آگہی مہم کے ذریعے شعور بھی پیدا کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض کی جانب سے سات سالہ پلان کے پروکیورمنٹ پراسیس کے لیے لیگل کنسلٹنٹ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here