پاکستان یو اے ای سے ایک ارب ڈالر قرض کی دوبارہ تجدید کیلئے پر اُمید

151

اسلام آباد: وفاقی حکومت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے حاصل کیے گئے ایک ارب ڈالر قرض کی مزید ایک سال تجدید کے لیے پُرامید ہے۔

وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے کافی پراعتماد ہیں کہ متحدہ عرب امارات اپنے ایک ارب ڈالر واپس نہیں مانگے گا کیونکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دوستانہ اور پُرتپاک تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای سے لیے گئے ایک ارب ڈالر قرض کی ادائیگی کی مدت رواں ماہ ختم ہو گئی تھی اور پاکستان 13 مارچ بروز جمعہ تک اس رقم ادائیگی کا پابند تھا۔ تاہم حکام نے بتایا کہ یو اے ای مزید ایک سال کے لیے کیش ڈپوزٹ برقرار رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

سال 2020ء: حکومت نے کتنے ارب ڈالر بیرونی قرض واپس کیا؟

سعودی قرضہ، پاکستان نے مزید ایک ارب ڈالر واپس کر دئیے

اس سے قبل، جنوری 2021ء میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنے ایک، ایک ارب ڈالر مزید ایک سالہ مدت کیلئے پاکستان کے سٹیٹ بینک میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اکتوبر 2018 میں سعودی عرب سے 6.2 ارب ڈالر کا مالی سپورٹ پیکیج حاصل کیا تھا اور یو اے ای نے بھی 6.2 ارب ڈالر قرض دیا تھا کیونکہ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں اور ملکی زرمبادلہ ذخائر کے استحکام جیسے مسائل کا سامنا تھا۔

دونوں خلیجی ملکوں نے پاکستان کو ملتوی شدہ ادائیگیوں پر تین تین ارب ڈالر کا تیل دینے اور تین، تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان می ڈپوزٹ کرنے کی حامی بھری تھی۔

دوسری جانب پاکستان گزشتہ سال کے اختتام تک  سعودی عرب کو تین ارب ڈالر کے قرض میں سے دو ارب ڈالر واپس کر چکا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کو بھی دو ارب ڈالر واپس کیے گئے ہیں، یوں دونوں ممالک کو ایک ایک ارب ڈالر کی ادائیگی باقی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here