ہیکر گروپ کا بینکوں، جیلوں، سکولوں اور کمپنیوں کے ڈیڑھ لاکھ کیمروں تک رسائی کا دعویٰ

133

واشنگٹن: امریکہ کے ایک ہیکر گروپ نے بینکوں، جیلوں، تعلیمی اداروں، کار ساز کمپنی ٹیسلا اور امریکہ کے دیگر مقامات پر لگے ڈیڑھ لاکھ حفاظتی کیمروں کی فوٹیج بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بلوم برگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ہیکر گروپ نے مختلف سیکورٹی کیمروں کی ہیک کی جانے والی وڈیو سے حاصل کی گئی تصاویر کو ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے بیان دیا کہ اگر ہم صرف دو دن میں سیکورٹی کیمروں کی اجارہ داری بالکل ختم کر دیں تو کیا ہو گا۔

ہیکر گروپ کی طرف سے پوسٹ کی گئی تصاویر میں جیل کے سیل بلاک کے اندر لگے کیمروں اور ایک بینک کے اسٹوریج روم کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ تصویر قیدیوں کا نارنجی لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ہیکرز کے حملے کی شکار سلیکون ویلی فرم ورکڈا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیرمجاز رسائی کو روکنے کے لئے ہم نے داخلی منتظمین کے تمام اکائونٹس کو غیرفعال کر دیا ہے اور ہماری داخلی سلامتی کی ٹیم اور بیرونی سکیورٹی فرم اس مسئلے سے نقصان کے پیمانے اور وسعت کی جانچ کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اپنے پلیٹ فارم پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو اس معاملے کے بارے میں مطلع کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here