پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ میں تیزی، آٹو انڈسٹری کو پیچھے چھوڑنے کا امکان

666

اسلام آباد: وزارتِ صنعت و پیداوار نے توقع ظاہر کی ہے کہ موبائل ساز انڈسٹری میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد کے ساتھ یہ صنعت آئندہ کچھ سالوں میں ملکی آٹو موٹیو انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے ذیلی ادارے انجنئیرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر ٹرن اوور کو دیکھا جائے تو مقامی سطح پر نئی قائم ہو رہی موبائل سازی کی صنعت برسوں پرانے آٹوموبائل سیکٹر کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔

اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے انجنئیرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے الیکٹرانک سیکٹر کو سہولیات دینا شروع کی ہیں، بورڈ حکام کے مطابق “مقامی سطح پر ٹیبلیٹس کی اسمبلنگ اور اس سے جڑے آلات اور موبائل اسیسریز کے حوالے سے مناسب فریم ورک کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے۔ بورڈ کا ویژن روزگار اور برآمدات کے لحاظ سے موبائل مینوفیکچرنگ کو تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ بنانا اور پورے ایکوسسٹم کو فروغ دینا ہے۔”

یہ بھی پڑھیے:

تین کمپنیاں پاکستان میں سمارٹ فون مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی خواہاں

پاکستان میں موبائل فونز مینوفیکچرنگ کیلئے قواعدوضوابط متعارف

سمگلنگ ختم ہونے سے موبائل فونز کی درآمدات پر 60 ارب ٹیکس آمدن

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال موبائل ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2020ء کی منظوری کے بعد نئی سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان کی موبائل سازی کی سنعت میں خاصی دلچسپی لے رہی ہیں۔

ای ڈی بی کے جنرل مینجر (پالیسی سازی) عاصم ایاز نے بتایا کہ تیار شدہ موبائل یونٹس کی درآمد کے مقابلے میں موبائل فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کافی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، نئی کمپنیوں میں ویوو، ائیرلنک کمیونی کیشن اور Inovo ٹیلی کام نے فروری 2021ء سے پاکستان میں موبائل سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

عاصم ایاز کے مطابق تینوں کمپنیوں کی مشترکہ پیداواری صلاحیت ماہانہ 10 لاکھ یونٹس سے زیادہ ہے، اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی کمپنی Transsion Tecno سمیت انفینکس اور آئی ٹیل جیسے مشہور برانڈز کی اسمبلنگ کر رہی ہے، پالیسی متعارف ہونے کے بعد طلب میں اضافے سے کمپنی کی مقامی سطح پر اسمبلنگ ڈیڑھ لاکھ یونٹس سے بڑھ کر ساڑے 6 لاکھ ماہانہ تک پہنچ گئی ہے۔

“موبائل اسمبلنگ میں نئی آنے والی کمپنیوں کے علاوہ کچھ حد تک تجربہ رکھنے والی جی فائیو (GFive) اور کیو موبائل (QMobile) جیسی کمپنیاں پہلے سے مارکیٹ میں کام کر رہی تھیں جبکہ سام سانگ اور اوپو نے بھی پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور مقامی سطح پر 200 ڈالر والے موبائل فون پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کے لیے پالیسی کی منظورشدہ سفارشات پر عملدرآمد کا انتظار کر رہی ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ نئی کمپنیاں متعارف ہونے سے اور موجودہ کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے سے پاکستان جلد مقامی سطح کی طلب کو پورا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here