‘قیمتی پتھروں کی برآمدات سے پاکستان سالانہ 32 ارب ڈالر کما سکتا ہے’

برما کے بعد دنیا میں صرف ہنزہ وہ علاقہ ہے جہاں سرخ یاقوت کے وافر ذخائر موجود ہیں، دنیا کا بہترین اور نایاب زمرد سوات کی دلکش وادی میں پایا جاتا ہے

2287

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے قیمتی پتھروں کی سالانہ برآمدات کے ذریعے 32 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

چئیرمین ایف پی سی سی آئی قربان علی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے کے پیش نظر قیمتی پتھروں کے برآمدکنندگان کو ویلیو ایڈیشن کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے قیمتی پتھروں کی ٹیسٹنگ کی لیبارٹریاں قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے، ملک کے بڑے شہروں میں جواہرات اور قیمتی پتھروں کو جانچنے کے لیے ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کرنے کے لیے ایف پی سی سی آئی کو حکومت کو ساتھ ملانا ہو گا۔

ایف پی سی سی آئی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ قیمتی پتھر بنیادی طور پر پاکستان کے شمالی اور جنوبی پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں رسائی آسان نہیں ہوتی۔ زیادہ تر یاقوت کے ذخائر گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برما کے بعد دنیا میں صرف ہنزہ وہ علاقہ ہے جہاں سرخ یاقوت کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ دنیا میں بہترین اور نایاب زمرد سوات کی دلکش وادی میں کان کنی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here