بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے بعد چین کا پولر سلک روڈ منصوبے کا اعلان

187

بیجنگ: چین نے ‘پولر سلک روڈ’ کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اپنا ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے نئے ‘آئندہ پانچ سالہ پلان 2021-25’ کے طور پر آرکٹک اور انٹارکٹک خطوں کی ترقی میں متحرک طور پر شرکت کرے گا۔ 

چینی میڈیا کے شائع کیے گئے منصوبے کے مطابق چین “قطب شمالی میں حقیقت پسندانہ تعاون اور قطب جنوبی کے استعمال اور اسکی حفاظت میں اپنی قابلیت بڑھانے کے لیے شرکت کرے گا”۔

2018ء میں چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی آرکٹک میں توسیع کی منصوبہ بندی کے ذریعے تجارتی راستوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ آرکٹک کے سینٹرل پیسیجز، شمال مغربی اور شمال مشرقی کے ذریعے یورپ اور ایشیا کو منسلک کرنے کے لیے نئے تجارتی راستے بنانا چاہتا ہے جس نے خطے کی خراب موسمی صورتحال سے متعلق تحفظات پیدا کیے ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ چین انٹرپرائزز کو انفراسٹرکچر تعمیر کرنے اور کمرشل سفری ٹرائل کنڈکٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا، یہ منصوبہ آرکٹک شپنگ روٹس کی راہ ہموار کرے گا جس سے ‘پولر سلک روڈ’ تعمیر کیا جائے گا۔

80 لاکھ مربع کلومیٹر محیط کے آرکٹک خطہ کا تعلق روس، ڈینمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن، کینیڈا اور امریکہ جیسی خودمختار ریاستوں سے ہے۔

ایک کروڑ 20 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد آرکٹک سمندر کی مذکورہ بالا ممالک کے ساتھ سرحدیں منسلک ہیں، بین الاقوامی قانون کے مطابق دیگر اقوام کے بھی اس کے ساتھ بحری حقوق اور مفادات ہیں۔

نان آرکٹک ریاست ہونے کے باوجود چین قطبی خطوں میں متحرک ہو رہا ہے۔ چین 2013ء میں آرکٹک کونسل کا مشاہداتی رکن بنا تھا۔ اس کے روسی یامال لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) منصوبے میں بڑے شئیرز ہیں، جہاں سے چین کو سالانہ 40 لاکھ ملین ٹن ایل این جی سپلائی ملنے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال کے آخر میں چین نے آرکٹک میں جمے ہوئے پانی میں تبدیلیوں کو مانیٹر کرنے اور شپنگ روٹس کو ٹریک کرنے کے لیے نیا سیٹلائٹ منصوبہ شروع کیا تھا، سیٹلائٹ منصوبہ 2022ء میں شروع کیا جا رہا ہے۔

قدیمی سلک روڈ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا مقصد چین کو یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور اس کے آگے کے خطے کو ملانے والے راستے میں تجارتی فروغ کے انفراسٹرکچر منصوبوں پر توجہ دینا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here