وزارت اطلاعات کا ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی متعارف کرانے کا عندیہ

وزیراعظم کو ڈیجیٹل میڈیا ڈویلپمنٹ پروگرام پر بریفنگ، اس کثیر الجہتی پروگرام کے نتیجے میں پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی و ترویج اور نچلی سطح تک ڈیجیٹل خواندگی کا فروغ ممکن ہو گا، ڈاکٹر ارسلان خالد

189

اسلام آباد: وزارت اطلاعات نے ڈیجیٹل میڈیا پر اشتہارات کی تقسیم کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دی۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد اور ڈیجیٹل میڈیا وِنگ کے جنرل منیجر عمران غزالی نے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم کو وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تجویز کردہ ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزنگ پالیسی کے حوالے سے آگاہ کیا جس کی حتمی منظوری وزیراعظم آفس سے دی جائے گی۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان میں فی الوقت 9 کروڑ 30 لاکھ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں جبکہ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی رحجان کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی ترتیب دینے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ فی الحال وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزمنٹ کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ منظوری کے بعد یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی پہلی پالیسی ہو گی جس کے تحت وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے حکومت ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشہیر کر سکے گی۔

شبلی فراز نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ترقی کر رہا ہے، مذکورہ پالیسی کے تحت نہ صرف نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پبلشرز کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ پاکستانی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر بھی ڈیجیٹل میڈیا کو بطور اشتہاری مہم استعمال کرنے کی جانب راغب ہو گا۔

ڈاکٹر ارسلان خالد نے وزیراعظم کو ڈیجیٹل میڈیا ڈویلپمنٹ پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کثیر الجہتی پروگرام کے نتیجے میں پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی و ترویج اور نچلی سطح تک ڈیجیٹل خواندگی کا فروغ ممکن ہو گا۔

وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ پی ایم ڈی پی طلبا، حکومت پاکستان اور ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان فاصلے کم کرے گا اور ڈیجیٹل میڈیا کا محفوظ مستقبل یقینی بنائے گا۔

عمران غزالی نے وزیراعظم کو ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی 6 ماہ کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا۔ پاکستان میں ڈیجیٹل صنعت کے فروغ پر وزیراعظم عمران خان نے وزارت اطلاعات و نشریات کے کردار کو سراہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here