ایف بی آر کا جعلی ری فنڈز لینے والی فرم کو تین ارب روپے جرمانہ

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ ملتان کی فرم نے مبینہ طور پر چھ ارب روپے کے جعلی ری فنڈز حاصل کیے، لیکن ایف بی آر حکام نے کہا کہ یہ چھ ارب نہیں ایک ارب ایک کروڑ روپے ری فنڈز کا کیس ہے، تحقیقات جاری ہیں

588

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ جعلی ری فنڈز حاصل کرنے والی ملتان کی نجی فرم کو ساڑھے تین ارب روپے جرمانہ کیا گیا ہے، ہائی کورٹ سے حکم امتناع ختم کرانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

سوموار کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان نورعالم خان، مشاہد حسین سید، عامر محمود کیانی، محمد ابراہیم خان، شاہدہ اختر علی سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 20۔2019ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ملتان میں ایک فرم عثمان ٹریڈرز کی جانب سے مبینہ طور پر چھ ارب روپے کے جعلی ری فنڈز کیس کا جائزہ لیتے ہوئے آڈٹ حکام نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا کہ 11 جنوری 2021ء کو رپورٹ مرتب کر کے ایف بی آر کے حوالے کر دی تھی، ایف بی آر نے اب اس کی وضاحت کرنی ہے۔

اس پر ایف بی آر حکام کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کیس کی دسمبر 2018ء میں نشاندہی خود ایف بی آر نے کی تھی اور محکمہ کے جو لوگ ملوث تھے انہیں نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ایف بی آر کی کارروائی، کراچی سے 21 بےنامی گاڑیاں پکڑ لیں

ایف بی آر: ٹیکس ریونیو میں چھ فیصد اضافہ، آٹھ ماہ میں 2.9 کھرب روپے جمع

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم: ایف بی آر کا اے جے سی ایل کنسورشیم کیساتھ 12 کروڑ ڈالر کا معاہدہ

ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے احکامات پر اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کیں، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں 12 نکات اٹھائے گئے، ان پر کام کر رہے ہیں۔ بعد ازاں آڈیٹر جنرل آفس سے ایک اور رپورٹ ہمیں دی گئی ہے، اس پر بھی کام جاری ہے۔

ایف بی آر حکام نے کہا کہ یہ چھ ارب کا نہیں ایک ارب ایک کروڑ روپے ری فنڈز کا کیس ہے۔ اس پر پی اے سی کے رکن ابراہیم خان نے کہا کہ درحقیقت یہ بے نامی اکاﺅنٹ ہے، مینو فیکچرر کوئی اور ہے اور پروڈکشن ایکسپورٹ بھی نہیں ہوئی بلکہ مقامی طور پر فروخت ہوئی ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ 2006ء سے 2016ء تک مجموعی طور پر 992 ارب روپے ری فنڈ کی مد میں دیئے گئے، اس کیس میں ٹیکس چوری کا جائزہ لیا ہے اور عثمان ٹریڈرز پر ساڑھے تین ارب کا ٹیکس جرمانہ عائد کیا ہے۔ ہائی کورٹ سے حکم امتناع واگزار کرانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک فیصلہ نہیں دے سکتے۔ پی اے سی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اچھا وکیل کر کے اس معاملہ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

علاوہ ازیں ایک ایف بی آر سے متعلق آڈٹ اعتراض کے جائزے کے دوران چیئرمین پی اے سی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایف بی آر کی گرانٹس میں بچت تو حد کے اندر ہے، باقی اداروں میں تو مالی بے قاعدگیوں کا تماشا لگا ہوا ہے۔

پی اے سی نے ہدایت کی کہ ایف بی آر تمام خالی آسامیوں کی تفصیلات سے کمیٹی کو آگاہ کرے۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی دراصل اداروں میں مالیاتی نظم و نسق چاہتی ہے، اداروں کو اپنے بجٹ بناتے وقت اچھی منصوبہ بندی کر کے اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ مالی سال کے دوران انہیں ضمنی گرانٹ کی ضرورت نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اِس حوالے سے سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ اگر کسی ادارے کو ضمنی گرانٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو اسی مالی سال کے دوران حاصل کرے۔ پارلیمنٹ اداروں کو جو بجٹ دیتی ہے اس کی اہمیت بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پی اے سی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ اپنا نظام درست کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here