بھارت گوادر کے مقابلے میں ایرانی چاہ بہار پورٹ کو مئی میں آپریشنل کرے گا

218

نئی دہلی: بھارت نے کہا ہے کہ وہ خطے میں تجارت کے فروغ کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کو مئی 2021ء کے آخر تک مکمل طور پر فعال کر دے گا۔

بھارت پاکستانی رُوٹ سے دامن بچانے کے لیے خلیج اومان کے ساتھ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر چاہ بہار بندرگاہ کا ایک حصہ تعمیر کر رہا ہے جہاں سے وہ نہ صرف ایران کو مصنوعات کی ترسیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اسی راستے کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تجارت بڑھانا چاہتا ہے۔

لیکن ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے چاہ بہار بندرگاہ پر ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہے، بھارت اس منصوبے پر تقریباََ 500 ملین ڈالر سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اب نئے امریکی صدر جوبائیڈن کی قیادت میں تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے۔

بھارت کے وزیرِ جہاز رانی مان سُکھ منداویا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بندرگاہ کے مکمل آپریشنل ہونے کی افتتاحی تقریب میں اپریل یا مئی میں ایران کے دورے پر جا سکتے ہیں۔

بھارت چاہ بہار بندرگارہ پر شاہد بہشتی کمپلیکس سمیت دو ٹرمینلز تعمیر کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت دونوں ٹرمینلز 10 سال کے لیے چلائے گا۔

بھارتی وزیر کے مطابق بندرگاہ پر محدود تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور اب اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے، فروری 2019ء سے جنوری 2021ء تک کی مدت میں چاہ بہار بندرگاہ پر 123 تجارتی جہاز لنگرانداز ہوئے اور 1.8 ملین ٹن کی جنرل کارگو اور مصنوعات کو لوڈ اَن لوڈ کیا گیا۔

بھارتی وزیر برائے بحری امور نے کہا کہ اب تک کی تجارتی سرگرمیاں ہماری توقعات سے بڑھ کر ہیں اور بندرگاہ مکمل طور پر فعال ہو گئی تو یہ صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔

گزشتہ برس وبا کے باعث بھارت نے افغانستان کو چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے 75 ہزار میٹرک ٹن گندم اور ایران کو ٹڈی دل کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے 25 ٹن میلاتھوئن کیڑے مار دوا بھجوائی تھی۔

25 ٹن گندم کا دوسرا جہاز حال ہی میں چاہ بہار پہنچا ہے، ایران کے ساتھ معاہدے کے مطابق بھارت شاہد بہشتی ٹرمینل کو فعال کرنے اور کے لیے 85 ملین ڈالر کی چھ کرینیں اور ضروری آلات فراہم کرے گا۔ اب تک بھارت نے دو موبائل ہاربر کرینز (ایم ایچ سی)  ایران کو فراہم کی ہیں اور آئندہ کچھ ہفتوں تک مزید چار کرینیں دی جائیں گے۔

انڈیا نے 1.6 ارب ڈالر لاگت سے چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک 600 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے جو افغان سرحد کے قریب ایران میں سیستان کے صوبائی دارالحکومت بلوچستان تک جائے گی، اس کے ذریعے مصنوعات کی افغانستان تک ترسیل کرنے میں سہولت ملے گی۔

بھارتی وزیر نے کہا کہ نئی دہلی نے چاہ بہار بندرگاہ کو انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے جو ممبئی کو ماسکو کے ساتھ ملائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here