نجی شعبے کی جانب سے اپریل اور مئی میں ایل این جی درآمد کیے جانے کا امکان

152

اسلام آباد: غیراستعمال شدہ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) ٹرمینل کی صلاحیت بڑھانے کا عمل اس وقت جاری ہے جس کے پیش نظر نجی سیکٹر کا اپریل یا مئی سے ایل این جی درآمد شروع کرنے کا امکان ہے۔ 

پیٹرولیم سیکٹر میں اس پیشرفت سے متعلق ایک سینئرسرکاری ذرائع کے مطابق مستقبل میں نجی فورمز کے ذریعے ایل این جی کی درآمد کا بھی ایسا ہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس وقت ری گیسیفیکیشن حجم مجموعی طور پر 1200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کے قریب صلاحیت کے مقابلے میں 1000 ایم ایم سی ایف ڈی کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ “لہذا، کسی بھی غیراستعمال شدہ صلاحیت کے حوالے سے حکومت کو سنجیدہ تحفظات نہیں ہیں اور اگر کسی بھی طرح کی غیراستعمال شدہ صلاحیت ہوئی تو وہ نیلامی کے لیے ہے”۔

یہ بھی پڑھیے:

ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں اضافہ

اوگرا نے ہائیڈرو کاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کو گیس میٹرز کے معائنے کا اختیار سونپ دیا

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (اوگرا) نے حالیہ پہلی بار قدرتی گیس اور ایل این جی کی فروخت کے حوالے سے ریگولیٹڈ سرگرمیوں کے تحت دو کمپنیوں کو مارکیٹنگ لائسنز جاری کیے تھے۔

اس کے علاوہ، اوگرا نے صارفین کو کریوجینک باؤزرز کے ذریعے ایل این جی کی سپلائی کے ‘پروویژنل لائسنسز’ جاری کیے، یہ لائسنس ان کمپنیوں کو جاری کیے گئے جہاں باقاعدہ گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک موجود نہیں۔

اس وقت، ملک بھر کے 9.6 ملین سے زائد صارفین کو 6 بی سی ایف ڈی کی طلب کے مقابلے میں گیس کی پیداوار 3.7 بی سی ایف ڈی کے قریب ہے۔

اوگرا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اگر مقامی سطح پر گیس کی دریافت اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کے اقدامات نہ کیا گیا تو 2029-30 تک گیس کی طلب و رسد کے درمیان خلاء 5389 ایم ایم سی ایف ڈی تک بڑھ سکتا ہے۔

اس دوران، اوگرا نے سوموار کو مارچ کے لیے لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 1.84 روپے فی کلوگرام اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ایل پی جی کی نئی قیمت 159.73 روپے فی کلوگرام مقرر ہو گئی ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے 11.8 کلوگرام کے ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت میں 21.78 روپے اضافے کے بعد گھریلو سیلنڈر کی قیمت 1884 روپے مقرر ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل 11.8 کلوگرام کا سیلنڈر 1863 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here