زرمبادلہ ذخائر سہارا دینے کیلئے سری لنکا کا 2.2 ارب ڈالر قرض کیلئے چین سے رابطہ

90

کولمبو: سری لنکن حکومت ملک میں غیرملکی زرِ مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے  چینی بینک سے 2.2 ارب ڈالر کی منتظر ہے۔

وزیربرائے منی اینڈ کیپیٹل مارکیٹس نیوارڈ کیبرال (Nivard Cabraal) نے کہا ہے کہ حکومت کو چین کے مرکزی بینک سے حتمی طور پر 1.5 ارب ڈالر قرض کی امید ہے۔

کیبرال نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ “آئندہ دو ہفتوں تک ہم اس کو حتمی طور پر کرنے کے قابل ہوں گے، حکومت فنڈز کو غیرملکی زرِمبادلہ ذخائر کو ‘سہارا’ دینے کے لیے استعمال کرے گی۔

سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوری تک سری لنکا کے غیرملکی زرِمبادلہ ذخائر کم ہو کر 4.8 ارب ڈالر تک آگئے تھے اس سے قبل ستمبر 2009ء میں زرِمبادلہ ذخائر کم ہو کر 4.2 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سری لنکا چینی ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ 700 ملین ڈالر قرض کے حصول کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جس میں چینی کرنسی کے برابر 200 ملین ڈالر کی رقم بھی شامل ہو گی۔

سابق صدر ماہندا راجاپکسا (Mahinda Rajapaksa) کے دورِ حکومت (2005 سے 2015) کے دوران کولمبو نے چین سے اربوں (سری لنکن روپوں) میں قرض لیا تھا، مہنگے انفراسٹرکچر منصوبوں سے سری لنکن حکومت پر بھاری قرض چڑھ گیا تھا۔

بحیرہ ہند کے ساتھ سٹریٹجک جغرافیائی حدود میں واقع ملک کو چینی قرضوں کی دلدل میں پھنسنے سے مغربی ممالک اور بھارت کے خدشات بھی بڑھنے لگے۔

ماہندا راجاپکسا کے 2019 میں بطور وزیراعظم اقتدار میں آنے کے بعد ان کے بھائی گوتابیہ راجاپکسا (Gotabaya Rajapaksa) بطور صدر منتخب ہوئے۔

سری لنکا کو 2017ء میں مجبوراََ اپنی سٹریٹجک بندرگاہ ہیمبینٹوٹا (Hambantota) کو چینی کمپنی کو 99 سال تک لیز پر دینا پڑا، جس کے بعد کولمبو نے کہا کہ وہ اس کی سروس میں بیجنگ کے 1.4 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی میں ناکام رہا۔

گزشتہ برس دنیا کی تین بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے کولمبو کی غیرملکی قرض کی عدم ادائیگی کے بعد سری لنکا کی کریڈٹ ریٹنگ کو ناقابلِ بھروسہ قرار دیا تھا۔

کیبرال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سری لنکا قرض کی بروقت ادائیگی کا اپنا ریکارڈ برقرار رکھے گا انہوں نے تین عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے سری لنکا کی کریڈٹ ریٹنگ میں تنزلی کو ناجائز قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا نے 2021 میں 3.7 ارب ڈالر قرض میں سے پہلے ہی 500 ملین ڈالر قرض کی ادائیگی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیرملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کے پیش نظر لگژری اور دیگر اجناس کی درآمدات پر پابندی عائد کی ہے تاکہ ملک کو قرض کی واپسی کے لیے وافر غیرملکی کرنسی کے ذخائر مل سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here