سات ماہ میں انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ایکسپورٹس میں 38 فیصد اضافہ

144

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور ٹیلی کام سروسز کی برآمدات میں گزشتہ مالی کی اسی مدت کے مقابلے میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر رزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان نے رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ (جولائی تا جنوری) کے دوران آئی سی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلقہ خدمات کی برآمدات سے ایک ارب 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر زرمبادلہ کمایا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 81 کروڑ 10 لاکھ ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔

رزاق دائود نے کہا کہ جولائی تا جنوری 2020-21ء کیلئے آئی سی ٹی اور ٹیلی کام سروسز کی برآمدات میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’عدالتیں ٹیکنالوجی سے متعلق کیس سننا چھوڑ دیں‘

پی ٹی سی ایل کا محدود ماحول میں فائیو جی ٹیکنالوجی کا ٹرائل کامیاب

انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 194 فیصد اضافہ

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2021ء میں یہ آئی سی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی برآمدات 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو جنوری 2020ء کی 12 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے 26 فیصد زیادہ ہیں۔

مشیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام سیکٹر کی برآمدات اب پاکستان کی سروسز ایکسپورٹس کا ایک تہائی ہیں، اس لیے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں اور توقع ہے کہ آئی سی ٹی سیکٹر کی برآمدات رواں مالی سال کے دوران دو ارب ڈالر سے تجاوز کریں گی۔

واضح رہے کہ فری لانسنگ انڈسٹڑی میں نمایاں ترقی کے باعث دنیا کے دس بڑے ممالک میں پاکستان چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ بھارت ساتویں اور بنگلہ دیش آٹھویں نمبر پر ہے۔  پاکستان میں کام کرنے والے 57 فیصد فری لانسرز کی عمریں 25 تا 34 سال ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 2018ء میں پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ تھی جبکہ دی گلوبل گگ اکانومی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد بڑھنے سے 2018ء کے مقابلہ میں 2021ء میں اس شعبہ سے حاصل آمدن 42 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here