امریکی پابندیوں سے فروخت میں کمی، ہواوے کا رواں سال سمارٹ فونز کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ

385

امریکہ کی جانب سے ہواؤے پرعائد کردہ پابندیوں کے پیشں نظر کمپنی کو اپنے موبائل فونز کی فروخت متاثر ہونے کا خدشہ، کمپنی نے جاری مالی سال کے دوران اپنے سمارٹ فونز کی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اگرچہ ہواؤے کے سمارٹ فونز دنیا بھر میں مقبول ہیں لیکن چینی کمپنی امریکہ، برطانیہ اور سویڈن جیسے ممالک میں رد کی گئی جہاں برطانیہ اور سویڈن نے بھی کمپنی کے 5جی نیٹ ورکس میں اپنے آلات استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

چینی سمارٹ فونز کی تیارساز کمپنی کو گوگل سروسز استعمال کرنے کی قابلیت کھونے کے بعد اپنی فروخت میں دن بدن کمی کا سامنا ہے۔ چئیرمین ہواؤے کے مطابق کمپنی کے لیے 2020 ایک ‘مشکل’ سال ہو گا۔

اینڈرائیڈ اتھارٹی کی نئی رپورٹس کے مطابق ہواؤے نے اپنے سپلائرز کو آگاہ کیا ہے کہ اس نے رواں سال 70 سے 80 ملین ڈیوائسز کے آلات آرڈر کرنے کا منصوبہ کیا ہے، جو 2020 کے مقابلے میں کمپنی کی فروخت 60 فیصد سے بھی زائد کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔

حتیٰ کہ کچھ سپلائرز کو کمپنی کی جانب سے مزید اس تعداد کو کم کرنے کی توقع ہے۔

امریکہ میں کمپنی سے متعلق ایک بنیادی خدشہ اس کی چینی حکومت سے قربت ہے جو کمپنی کے آلات جاسوسی کے مقاصد میں مبینہ طور پر استعمال ہونے کا مزید خوف پیدا کرتے ہیں۔ لہذا، 2012 میں کمپنیوں پر ہواؤے کے آلات استعمال کرنے سے پابندی عائد کی گئی۔

مزید برآں، کمپنی کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے تحت مئی 2019 میں امریکہ کے محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی اینٹیٹی لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت کے صدر نے ان احکامات میں 2021 تک توسیع کی۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہواؤے Ren Zhengfei امریکہ سے چینی کمپنیوں سے متعلق ایک کھلی پالیسی چاہتے ہیں اور انہوں نے جوبائیڈن انتظامیہ سے پابندی پر دوبارہ سے نظرثانی کی درخواست بھی کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here