10ویں این ایف سی ایوارڈ کی سفارشات مرتب  کرنے کیلئے 7 ذیلی گروپ قائم

وزیر خزانہ کی قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو کامیاب بنانے کیلئے تمام گروپوں کو اپنی سفارشات این ایف سی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت

173

اسلام آباد: دسویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق اجلاس میں کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کی رو سے سات ذیلی گروپوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تمام گروپوں کو اپنی سفارشات این ایف سی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

گزشتہ روز 10ویں این ایف سی سے متعلق اجلاس وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ آئین پاکستان صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو وفاق اور صوبوں کے درمیان مجموعی محاصل سے حاصل شدہ مالیاتی وسائل کی خوشگوار انداز میں تقسیم کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایک ایسا فورم ہے جس کا کام وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا اور باہمی اتفاق رائے سے  پائیدار بنیادوں پر وسائل کی تقسیم کا فارمولا وضع کرنا ہے۔

اس موقع پر وفاقی سیکرٹری خزانہ نے اجلاس میں قومی مالیاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس اور اہم اہداف کا اجمالی خاکہ پیش کیا جس میں 10ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کیلئے پائیدارمائیکرو اکنامک فریم ورک تیار کرنا، وفاق اور صوبوں کے درمیان محاصل  اور وسائل کی تقسیم، کاروبار کے فروغ کیلئے ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سابق قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے مقابل لانا شامل ہے۔

اجلاس کے دوران کمیشن کے ارکان نے آئندہ پیش آمدہ مالیاتی مسائل کا جائزہ پیش کیا جس میں پنشن کی مد میں ادائیگیوں میں اضافہ اور محصولات اکھٹا کرنے والی وفاقی اور صوبائی ایجنسیوں کے درمیان قریبی روابط کا فروغ شامل ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے وفاق اور صوبوں کی سطح پر ریونیو اکھٹا کرنے کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مالی گنجائش اور ریونیو اکھٹا کرنے میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس میں کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کی رو سے سات ذیلی گروپوں کا قیام عمل میں لایا گیا، تمام گروپوں کو اپنی سفارشات این ایف سی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ 10ویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو کامیاب بنانے کیلئے تمام ممبران کو ترجیحی اور قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی بھرپور کوششیں کرنا چاہئیے۔

وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کے حوالہ سے ہونے والے اجلاس میں وہ اور سیکرٹری خزانہ وفاق کی طرف سے شامل ہوئے۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ اور سندھ کے وزیراعلیٰ اور ان کے پرائیوٹ ممبر نے شرکت کی۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ ہم نیشنل فنانس کمیشن پر ایک ٹرمز آف ریفرنس طے کریں، اس پراتفاق رائے ہوا ہے اور بعض ایشوز پر مزید گفت شنید کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں چھ ذیلی گروپ بنائے گئے ہیں، پہلا گروپ قومی ترقی کے فریم ورک سے متعلق ہے، دوسرا ذیلی گروپ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے بارے میں ہے، دونوں گروپوں کی سربراہی سیکرٹری خزانہ کریں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کیلئے ایک گروپ بنایا گیا ہے، چونکہ قبائلی علاقے اب خیبرپختونخوا میں ضم  ہو چکے ہیں اس لئے اس امر کو بھی اب این ایف سی میں شامل کرنا ہے، اس مقصد کیلئے ایک الگ گروپ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک گروپ کاروبار میں آسانیوں اور صوبوں کے درمیان ٹیکس میں ہم آہنگی لانے سے متعلق ہے، ایک گروپ وفاق کی جانب سے صوبوں کو براہ راست رقوم کی فراہمی جیسے رائلٹی وغیرہ سے متعلق ہے، ان چار گروپوں کی سربراہی صوبائی وزرائے خزانہ کریں گے۔

وزیرخزانہ کے مطابق پنشن اور اس سے متعلق امور کیلئے صوبوں کی درخواست پر ایک الگ گروپ بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد ایف بی آر اور صوبائی ریونیو اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق بات چیت اچھے ماحول میں چلتی رہے گی۔ ہم پرامید ہیں کہ عوامی امیدوں کے مطابق قومی وسائل میں اضافہ اور وسائل کی تقسیم کے عمل کو شفاف و آسان نظام کے مطابق ممکن بنانے میں کامیابی ملے گی اور بنیادی ڈھانچہ، صحت، سماجی تحفظ، تعلیم، سینی ٹیشن اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت، وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمورسلیم خان، وزیر خزانہ بلوچستان ظہور احمد بلیدی، پنجاب سے طارق باجوہ، خیبرپختونخوا سے ممبر محمد رسول سیان، بلوچستان سے ڈاکٹر قیصر بنگالی، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید اور وفاقی و صوبائی وزارت خزانہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here