ادائیگیوں میں تاخیر، دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کرنے والی کمپنیوں کی کام روکنے کی دھمکی

255

اسلام آباد: مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے دیامیر بھاشا ڈیم سے منسلک کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے واجبات کی جلد ادائیگی نہ کی گئی تو وہ مجبوراََ کام بند کردیں گی۔

تفصیلات کے مطابق منصوبے کے مقامی سطح پر جوائنٹ وینچر پارٹنرز نیشنل انجنئیرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک)سمیت ایسوسی ایٹڈ کنسلٹنگ انجنئیرز (اے سی ای) اور ایم ایم پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ (ایم ایم پی) نے گزشتہ ماہ دیامیر بھاشا ڈویلپمنٹ کمپنی (ڈی بی ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) جنرل مینجر/پروجیکٹ ڈائریکٹر کو ایک خط لکھا تھا جس میں معاہدے کی شرائط کے مطابق 10 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد کی واجب الادا رقم کی ادائیگی کی کلئیرنس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خط کے مطابق “خط لکھنے کے بعد اگر مقامی جوائنٹ وینچرز فورمز اور ایسوسی ایٹس کو سات روز کے اندر ادائیگیاں نہ کی گئیں تو کمپنیاں کنسلٹنٹ سروس ایگریمنٹ کے کلاز 6.7 کے تحت منصوبے میں وقفہ دینے یا کام روکنے پر مجبور ہو جائیں گے”۔

مزید برآں، خط میں کہا گیا کہ عدم ادائیگی کے نتیجے میں کمپنیاں یہ حق محفوظ رکھتی ہیں کہ وہ معاہدے اور ملکی قوانین کے تحت بغیر کسی تعصب، تاخیر کی صورت میں ادائیگی پر سود، وقت کی توسیع اور لاگت سمیت تمام طرح کے نقصانات کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

واپڈا کو نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ سے 120 ارب روپے کی آمدن  

دیامیربھاشا ڈیم، زمین کا دیرینہ تنازع حل کرنے کیلئے جرگہ قائم

مقامی جوائنٹ ویچرز فورمز کلائنٹس کی جانب سے عدم ادائیگی کی وجہ سے منصوبے کی رقم ختم ہو چکی ہے اور انہیں آپریشنز جاری رکھنے کے لیے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ اگرچہ غیرملکی جوائنٹ وینچر پارٹنرز کو انکی انوائسز کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں (یہ ادائیگیاں بھی 30 دن کے اندر کرنا تھیں جنہیں کافی تاخیر کے بعد کیا گیا)، مقامی جوائنٹ پارٹنرز جیسے نیسپاک، اے سی ای، ایم ایم پی اور ایسوسی ایٹس ابھی تک اپنی ادائیگیوں کا انتظار کررہی ہیں۔

مقامی مشاورتی فورمز نے ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ ڈی بی ڈی سی کی جانب سے کمپنیوں کے بلنگ ریٹس کی تصدیق کو غیرمنصفانہ مطالبہ قرار دیا ہے۔ مقامی جوائنٹ وینچرز نے ڈی بی ڈی سی کے تمام جائز مطالبات کو پورا کیا اور انہیں بلنگ ریٹس کی تصدیق کے لیے مطلوبہ دستاویزات بھی فراہم کیے، جو عام طور پر واپڈا کے تمام سابقہ منصوبوں کے لیے کافی ثابت ہوئے۔

خط میں کہا گیا کہ “گزشتہ کچھ ماہ سے درجنوں اجلاس منعقد کرکے واپڈا اور ڈی بی ڈی سی کو ریٹس کی تصدیق کے لیے مطمئن کیا گیا۔ تاہم، واپڈا اور ڈی بی ڈی سی کے دیگر دستاویزات کے متعلق مطالبات حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ “ریٹس کی تصدیق کے لیے ان کی اپنی متنازعہ تشریح ہے جو ایک غیرمنطقی اور واپڈا کی تاریخ میں عائد نہیں ہوتی”۔

خط میں کہا گیا کہ واپڈا اور ڈی بی ڈی سی نے تفتیشی ایجنسی کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے جو ان کے دائرہ کار سے باہر ہے اور مقامی جوائنٹ وینچر پارٹنرز کے لیے ان کے بدلتے مطالبات منصفانہ اور قابلِ قبول نہیں ہیں۔

اس بابت واپڈا کے ترجمان کا بیان لینے کے لیے پرافٹ اردو نے رابطہ کیا لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here