عمران خان کی حکومت میں وزیراعظم ہائوس کے اخراجات کم ہوئے یا بڑھے؟

758

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم ہائوس کے اخراجات میں 35 فیصد جبکہ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں 40 فیصد کمی کی گئی ہے۔

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا وزیراعظم عمران خان کا کوئی کیمپ آفس نہیں اور اگر اخراجات کی بات کریں تو پرائم منسٹر ہائوس کے اخراجات 2018ء میں 50 کروڑ 90 لاکھ روپے اور آفس کے اخراجات 50 کروڑ 40 لاکھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملکی حالات کو جانتے ہوئے اس کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، وہ تحفے تحائف نہیں لیتے جبکہ کیش ایوارڈز بھی نہیں دیتے، وزیراعظم ہائوس کے اخراجات 35 فیصد کم ہو کر 33 کروڑ 90 لاکھ روپے جبکہ آفس کے اخراجات 40 فیصد کم ہو کر 30 کروڑ 50 لاکھ پر آ گئے ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان جس دن سے حکومت میں آئے ہیں انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شاہانہ کلچر کو ختم کر کے سادہ کلچر متعارف کرایا ہے، ماضی میں حکمرانوں کا خاندان اور دوست احباب وزیراعظم ہائوس میں رہتے تھے اور پرتعیش نظام ’فری آف آل‘ تھا۔

وزیر اطلاعات کے بقول ماضی کے وزرائے اعظم  نے غیرضروری بیرونی دوروں پر قوم کے کروڑوں خرچ کئے، شریف خاندان کے پانچ کیمپ آفسز پر سیکورٹی کیلئے 2745 پولیس اہلکار تعینات تھے اور اس خاندان نے علاج کیلئے لندن جا کر قوم کے 34 کروڑ اڑائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعطم عمران خان کا کوئی کیمپ آفس نہیں جبکہ شریف خاندان کے پانچ اور گیلانی دور میں بھی وزیراعظم ہائوس کے علاوہ پانچ کیمپ آفسز کام کرتے رہے جس پر گیلانی دور میں قوم کا 57 کروڑ اڑایا گیا، صدر زرداری نے بھی ایوان صدر کے عالی شان محل کے علاوہ کیمپ آفس پر 360 کروڑ خرچ کیے تھے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نہ تو پولیس کے قافلے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی کیمپ آفس ہے، گھر کی باڑ بناتے ہیں تو بھی اپنے ذاتی خرچ سے بناتے ہیں، کابینہ اجلاس میں کوئی کھانا نہیں صرف ایک کپ چائے اور دوبسکٹ ملتے ہیں، یہ ہوتی ہے کفایت شعاری۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here