خیبرپختونخوا میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر

213

پشاور: خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر مہنگائی کی نئی لہر سے اوپن مارکیٹ میں آٹا، چینی، گھی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پشاور کی اوپن مارکیٹ میں 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 1400 روپے، دال چنا 130 سے بڑھ کر 170 روپے فی کلو، دال ماش 230 سے 260 روپے، گھی 270 روپے فی کلو اور چینی 100 روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مک بھر میں یومیہ بنیادوں پر مہنگائی پر قابو پانے کا دعویٰ کیا لیکن عملی طور پر نہ ضلعی انتظامیہ اور نہ ہی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نظرآتی ہیں۔

پشاور کے رہائشی انعام خان کے مطابق حکومت کے اوگرا کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کرنے کے باوجود نہ تو حکومت اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے مہنگائی پر قابو پانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب، دکانداروں کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ دکاندار نے کہا کہ “مہنگی اشیاء خرید کر ان اشیاء کو ہم کیسے سستا فروخت کرسکتے ہیں؟ افراطِ زر میں اضافے نے کم آمدن افراد کو بری طرح متاثر کیا ہے”۔

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر حاجی غلام علی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملکی 73 سالہ تاریخ میں افراطِ زر کا ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگر حکومت بے روزگاری اور افراطِ زر پر قابو نہیں پاتی تو لوگ احتجاجاََ باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here