لاہور ہائیکورٹ نے کاشتکاروں کو دوسرے صوبوں میں گنا فروخت کرنے کی اجازت دیدی

148

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے گنے کے کاشت کاروں کو اپنی فصل دیگر صوبوں کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔

پنجاب کین کمشنر کی جانب سے گنے کی دوسرے صوبوں کی شوگر ملز کو فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی، شوگر ملز نے بین الصوبائی برآمد پر پابندی ہٹانے سے متعلق پنجاب کین کمشنر کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں گنے کی دیگر صوبوں کو فروخت کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز کے پاس کسانوں کو مالی طور پر کمزور کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینِ کے تحت کسانوں کے حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو کسانوں کو ان کی فصل دیگر صوبوں کو فروخت کرنے سے روکے۔

اس سے قبل پسِ پردہ خریداری کے عمل کو روکنے کیلئے پنجاب کین کمشنر نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ان کے متعلقہ علاقوں میں شوگر ملز کی جانب سے گنے کی خریداری کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وزارتِ صنعت کو بتایا کہ شوگر ملز کو خام مال کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور اگر بحران مسلسل رہا تو آئندہ کچھ روز میں ان کے آپریشنز بند ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

بزدار حکومت کے اہم فیصلے، گنے کی امدادی قیمت 200 روپے مقرر

گنے کی غیرقانونی خریداری میں ملوث 71مڈل مین گرفتار، 164 مقدمات درج

چئیرمین پی ایس ایم اے سکندر خان نے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کو ایک خط میں لکھا کہ کسان گنے کی سپلائی کو روکنے کے لیے اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خط میں شکایت کی گئی کہ شوگر ملز نے متعلقہ صوبائی حکومتوں کی ہدایات کے مطابق ملک بھر میں گنے کے کرشنگ سیزن  کا قبل از وقت آغاز کیا تھا تاہم کاشت کاروں نے گنے کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہی نہیں کیا۔

خط میں مزید کہا گیا تھا کہ کسانوں کی جانب سے حکومتی مقرر کردہ 200 روپے فی من قیمت کے مقابلے میں زیادہ قیمت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، گنے کی سپلائی میں قلت کے باعث خدشہ ہے کہ شوگر ملز کو گنے کے بحران کا سامنا ہو گا جس سے ایک ہفتے تک ان کے آپریشنز بند ہوجائیں گے”۔

تاہم وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ پنجاب میں گنے کا کوئی بحران نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت شوگر ملز کے ساتھ چینی کی زائد قیمتوں سے متعلق مذاکرات کرتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ طلب و رسد کی وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا لیکن جب کسانوں کیلئے گنے کی قیمتوں کی بات آتی ہے تو شوگر ملرز اپنے اس بیانیے سے منحرف ہو جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here