بزدار حکومت کے اہم فیصلے، گنے کی امدادی قیمت 200 روپے مقرر

154

لاہور: پنجاب کابینہ نے گنے کی امدادی قیمت 200 روپے فی من مقرر کرنے کے علاوہ ٹرانسپورٹیشن چارجز اور ڈویلپمنٹ سیس کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرِصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں درآمدی چینی کی اضافی خریداری کے لیے وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، یہ کمیٹی چینی کے ذخیرہ پر نظرثانی کے بعد تجاویز جمع کرائے گی۔

کابینہ ارکان نے زور دیا کہ کرشنگ سیزن کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو ان کی محنت کا پورا صلہ دینا چاہیے جبکہ بروقت ادائیگیاں نہ کرنے والے شوگرملرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔

کابینہ نے محکمہ خوراک کو 63 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کے لیے پاسکو کے ساتھ معاہدے کی بھی اجازت دی، اجلاس کے شرکاء نے چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

پنجاب حکومت کا ہائی ویز کے اردگرد علاقے ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ

کسانوں کا گنے کی غیر قانونی خریداری کرنے والے مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

اس دوران کابینہ نے نابینا افراد کے روزگار کے حصول کے لیے پانچ سال عمر میں رعایت اور تین فیصد کوٹے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے بعد نوکری کے حصول کے لیے نابینا افراد کو اب 15 سال کی رعایت ہو گی۔

اجلاس میں 17 رکنی پنجاب سیاحت، کلچر اور ہیریٹیج اتھارٹی کے قیام کے لیے مسودہ قانون کی منظوری دی گئی، وزیراعلیٰ اور وزیر سیاحت بالترتیب اس کے چئیرمین اور وائس چئیرمین ہوں گے۔

کابینہ اجلاس میں کاروباری اورمعاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کوئلے کی کانوں کی لیز پر پابندی اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا اور اجلاس میں کانوں کی لیز میں تجدید پر بھی پابندی ختم کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔

مزید برآں اجلاس میں 2004 میں خراب ہونے والے طیارے (AP-BX/400-A,RK-80) کو ڈسپوز آف کرنے کیلئے وزارتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، کمیٹی اس کی نیلامی سمیت مختلف آپشنز پر نظرثانی کرکے اپنی رپورٹ جمع کرائے گی۔

اس کے علاوہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ضلع بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں ریسکیو 1122 سٹیشن اور تحصیل کونسل جھنگ کی ملکیتی چھ کنال اراضی کی منتقلی کیلئے این او سی کے اجراء کی منظوری بھی دی گئی۔

یونیورسٹی آف جھنگ کے رجسٹرار کی تعیناتی کی منظوری کے ساتھ اِن لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کمپنی کے اثاثوں کو محکمہ سیاحت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here