جعلی ادویات کا پتہ لگانے والی ڈیوائس ایجاد

ترک ماہر کیمسٹری ڈاکٹر ڈیریا سیبیسی  کی بنائی اس ڈیوائس سے 20 سیکنڈ میں کسی ادویہ کا نقلی یا اصلی پن معلوم ہو جائیگا، سالانہ 400 ارب ڈالر کی جعلی ادویات کی مارکیٹ کو دھچکا لگے گا

717

استنبول: ترکی کی ایک سائنسدان نے ایسی انفراریڈ ڈیوائس ایجاد کی ہے جس کے ذریعے 20 سیکنڈ میں دوائی کے اصلی اور جعلی ہونے کا پتہ چل سکے گا۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمسٹری کی ماہر ڈاکٹر ڈیریا سیبیسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے کھانسی کے شربت سے لے کر کینسر کی دوائیوں تک کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے ایک ایسا آلہ تیا ر کیا ہے جو صرف 20 سیکنڈ میں ادویات کو چیک کرکے بتا دے گا کہ وہ ں اصلی ہیں یا جعلی۔

ڈاکٹر ڈیریا سیبیسی امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ایف ڈی اے) میں کئی سال تک کام کر چکی ہیں اور اب وہ جعلی ادویات کو پکڑنے والی مصنوعی ذہانت پر مبنی اپنی ڈیوائس پر ریسرچ کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بار کوڈ اسکینر کی طرح کی اس ڈیوائس سے سالانہ 400 ارب ڈالر کی جعلی ادویات کی مارکیٹ کو ایک دھچکا لگے گا۔ اس ٹیکنالوجی کا اطلاق کورونا وائرس کی ویکسین اور منشیات کے معائنے کیلئے بھی کیا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here