وبا کے منفی اثرات، قرضوں کا حجم عالمی جی ڈی پی کے 23 فیصد تک پہنچ گیا

دنیا بھر میں پبلک پرائیویٹ قرضہ 197 کھرب ڈالر، ترقی یافتہ ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کا حجم 105 فیصد، ابھرتی ہوئی معیشتوں میں 54 فیصد، کم آمدنی والے ممالک میں 44 فیصد تک پہنچ گیا

245

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ سال 2019ء کے دورن عالمی سطح پر پبلک پرائیویٹ قرضوں کا حجم 197 کھرب ڈالر تک بڑھ گیا جو سال 2018ء کے مقابلہ میں 9 کھرب ڈالر زیادہ رہا ہے۔

گزشتہ سال 2020ء کے دوران کووڈ۔19 کی عالمی وبا کے باعث اکثر ممالک کی معیشتوں کو دبائو کا سامنا تھا جبکہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم اور وبا کے باعث فراہم کی گئی مالی معاونت سے بھی عالمی سطح پر معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2007ء کے مقابلہ میں سال 2019ء کے دوران دنیا بھر میں قرضوں کے حجم میں جی ڈی پی کے تناسب سے 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کا حجم 72 فیصد کے مقابلہ میں 105 فیصد تک بڑھ گیا جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ شرح 35 کے مقابلہ میں 54 فیصد تک بڑھ گئی، اسی طرح کم آمدنی والے اور غریب ممالک میں قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے مقابلہ میں 44 فیصد تک پہنچ گیا۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کی عالمی وبا کے باعث بین الاقوامی سطح پر معاشی دبائو کی صورت حال رہی اور وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے لاک ڈائون کے احتیاطی اقدامات کی وجہ سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑا۔

دوسری جانب کورونا وبا کےحوالہ سے عوام کو ریلیف کی فراہمی کے اقدامات سے بھی دنیا بھر میں معاشی دبائو میں اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here