میانمار میں حکومت کیخلاف بغاوت، فیس بک نے ملٹری ٹی وی کا صفحہ ہٹا دیا

160

ینگون: فیس بک نے میانمار کی فوج کے ملکیتی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا صفحہ ہٹا دیا ہے۔ فیس بک نے یہ فیصلہ میانمار میں فوجی جنتا کی آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تحقیقات کار قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ فیس بک پر منافرت آمیزی نے میانمار میں تشدد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فیس بک نے 2018ء میں بھی ملٹری ٹی وی کے نیٹ ورک پر پابندی عائد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: میانمار میں فوج اقتدار پر قابض، آنگ سان سوچی سمیت متعدد رہنما گرفتار

سماجی روابط کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کی ترجمان نے کہا ہے کہ میانمار کی صورت حال کو ہنگامی پہلو سے دیکھا جا رہا ہے، ضرر رساں مواد سے تحفظ کیلئے عارضی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایسے مواد کو ہٹایا جا رہا ہے جس میں فوجی بغاوت کو سراہا گیا ہو۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فیس بک ایسے تمام مواد کو ہٹا رہی ہے جس سے تشدد کو شہ مل سکتی ہے یا کسی کو جسمانی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے یا نومبر 2020ء میں منعقدہ عام انتخابات کے نتائج کو غیرقانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ فیس بک نے اس کی نشاندہی پر یہ کارروائی کی ہے اور میاوڈے ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا صفحہ ہٹایا ہے۔

دریں اثناء میانمار کی فوج نے سوشل میڈیا پر افواہوں پر مبنی مواد پوسٹ کرنے پر خبردار کیا ہے۔ اس کی وزارت اطلاعات کے مطابق ایسے مواد سے فسادات کو شہ مل سکتی ہے اور ملک میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کی پانچ کروڑ 30 لاکھ آبادی میں سے قریباََ نصف نفوس فیس بک استعمال کرتے ہیں اور ملک میں اتنی ہی تعداد میں لوگوں کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here