او جی ڈی سی ایل نے حیدرآباد میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے

171

حیدرآباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع حیدرآباد میں گیس اور کنڈنسیٹ کے نئے ذخائر دریافت کر لیے۔ 

تفصیلات کے مطابق او جی ڈی سی ایل جس کے آپریٹر کے طور پر (95 فیصد) ذخائر کے ساتھ حکومتی ہولڈنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے (5 فیصد) ذخائر ہیں نے اپنے تیل و گیس دریافت کرنے والےسیال-1 کنویں سے گیس اور کنڈنسیٹ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، مذکورہ ذخائر کا کنواں ضلع حیدرآباد، سندھ میں واقع ہے۔

او جی ڈی سی ایل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “سیال-1 کا سٹرکچر او جی ڈی سی ایل کی اِن ہاؤس ایکسپرٹیز کو استعمال کرتے ہوئے تجربہ اور ڈرلنگ کی گئی۔ گیس کی دریافت کے لیے کنویں کی کھدائی 2442 میٹر گہری کی گئی۔ کنویں کی 1.146 ملین سٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) کے لاگز ڈیٹا کی بنیاد پر کھدائی کا تجربہ کیا گیا جبکہ کنویں پر گورو فارمیشن سے نیچے 460 پاؤنڈز فی سکوئیر انچ (پی ایس آئی) کے بہاؤ سے 32/64 انچ چوک کےذریعے یومیہ 680 بیرل کنڈنسیٹ کیا گیا “۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی جارحانہ دریافت کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے نتیجے میں سیال-1 پر گیس اور کنڈنسیٹ کی دریافت ممکن ہوئی۔ “دریافت سے نئے مواقع کی راہ کھلے گی، او جی ڈی سی ایل کے ذخائر کو جوائنٹ وینچر پارٹنر اور ملک کے ہائیڈروکاربن ذخائر بیس میں شامل کیا جائے گا”۔

او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ ذخائر کی تازہ ترین دریافت ملک میں تیل و گیس کی طلب و رسد کے خلا کو کم کرنے میں مدد کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here