سعودی کمپنیوں نے سابق انٹیلی جنس چیف کے خلاف اربوں ڈالر فراڈ کا مقدمہ دائر کر دیا

سعودی کمپنیوں نے سعد الجابری کیخلاف فراڈ کا کیس کینیڈا کی عدالت میں دائر کیا، جابری پرنس محمد بن نابف کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے اور 2017ء کی بغاوت اور محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے پر ملک چھوڑ گئے تھے

246

اوٹاوا: سعودی عرب کی سرکای ملکیتی کمپنیوں نے ملک کے سابق انٹیلی جنس چیف کے خلاف اربوں ڈالر فراڈ کرنے کے الزام میں کینیڈین عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق Tahakom Investment Co کے تحت دس سرکاری ملکیتی کمپنیوں نے اونٹاریو سپیرئیر کورٹ میں ایک فوجداری مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سابق انٹیلی جنس سربراہ سعد الجابری نے ان کے ساتھ 3.47 ارب ڈالر کا فراڈ کیا ہے۔ مذکورہ کمپنی سعودی عرب کے خودمختار ویلتھ فنڈ کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔

کینیڈا میں جلاوطن ہونے والے سعد الجابری شہزادہ محمد بن نائف کے قریبی ساتھی تھے جنہیں 2017ء کی ‘مبینہ بغاوت’ کے بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور انہیں ریاض میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

الجابری کے حق میں شروع کی گئی مہم کے ذریعے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ “دوبارہ سے لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور انہیں اعتماد ہے کہ وہ ان الزامات کے خلاف سرخرو ہوں گے”۔

ادھر انٹاریو کورٹ نے الجابری کے دنیا بھر میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے الجابری کی سعودی عرب میں جائیداد، بوسٹن میں لگژری املاک سمیت کینیڈا میں کئی املاک کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔

سعودی کمپنیوں کی جانب سے دائر مقدمہ میں الجابری پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے انہوں نے کمپنیوں کی فنڈنگ کو دہشتگردی پھیلانے کی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا، سکیورٹی آلات کی خریداری کی، دنیا بھر میں ایجنٹس اور مخبروں کو ادائیگی کرتے رہے اور خود اوراپنے خاندان اور دوستوں کو فائدہ پہنچایا۔

عدالت کے مطابق “اگرچہ مذکورہ فنڈز کے ناجائز استعمال کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ کم از کم 2008ء سے 2017ء تک الجابری نے کم سے کم 13 اداروں کی خلاف قانون نگرانی کی تھی”۔

تاہم الجابری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ‘مظالم’ سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

گزشتہ برس اگست میں الجابری نے محمد بن سلمان کے خلاف امریکا میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں الزام لگایا تھا کہ 2018ء میں محمد بن سلمان نے کینیڈا میں انہیں (الجابری) مارنے کیلئے ایک سکواڈ بھیجا تھا۔

الجابری نے کہا کہ “محمد بن سلمان مجھے محمد بن نائف کا قریبی ساتھی ہونے کی وجہ سے قتل کروانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سعودی حکمرانوں سے متعلق اہم معلومات ہیں۔”

الجابری نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول میں قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی کی طرح قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن کینیڈین پولیس کو اس منصوبے کا بروقت پتا چل گیا جس کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here