افغانستان تجارتی سامان لیجانے والے ڈرائیورز کیلئے نئے ویزہ کی شرائط پر تحفظات کا اظہار

219

پشاور: سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) نے طورخم سرحد سے افغانستان تجارتی سامان لے جانے والے ڈرائیورز پر نئے ویزے یا پاسپورٹ کی شرط لاگو کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایس سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئی شرائط سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت میں مزید رکاوٹیں آئیں گی اور اس فیصلے کو جلد واپس لینے کی ضرورت زور دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر داخلہ نے 20 فروری سے طورخم سرحد کے ذریعے مصنوعات کی ترسیل کرنے والے ڈرائیورز کیلئے مستند پاسپورٹ یا ویزہ لازمی قرار دیا تھا، اس حوالے سے سرحدی انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

سینئر نائب صدر سرحد چیمبر انجنئیر منظور الہٰی نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاک افغان دوطرفہ تجارتی حجم جو اس وقت ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے اور اگر حکومت نے اپنی تجارتی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو مذکورہ تجارتی حجم مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاک افغان تجارت میں رکاوٹیں، سیمنٹ کی برآمدات متاثر، 8.6 فیصد کمی

حکومت کا پاک افغان تجارت کے لیے غلام خان بارڈر بھی کھولنےکا فیصلہ

انہوں نے حکومت کو یاد دہانی کرائی کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ 2010ء آئندہ ماہ 11 فروری کو منسوخ ہو جائے گا جبکہ نئے معاہدے پر دستخط کے لیے ابھی تک مشاورت یا کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

منظور الہٰی کے مطابق طورخم سرحد پر ایف سی اہلکاروں نے کسٹمز حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ 20 فروری کے بعد ویزہ یا پاسپورٹ نہ رکھنے والے ڈرائیورز یا کلینرز کو سرحد سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سینئر نائب صدر ایس سی سی آئی نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دوطرفہ تجارت کے لیے یہ کافی پریشان کن اور ناموافق صورت حال ہے۔

تجارتی مسائل پر کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت نہ کرنے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے منظور الہٰی نے حکومت سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے بہترین مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ویزے کی شرائط کو جلد واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے حکومت سے نئے اے ٹی ٹی اے معاہدے پر دستخط سے قبل متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینے کی بھی درخواست کی تاکہ اس سے پاک افغان دوطرفہ تجارت پر دیرپا مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here