بینکوں سے نجی سیکٹر کے قرضوں کے رجحان میں 65 فیصد اضافہ

97

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2020 میں نجی شعبے کا بینکوں سے لیے گئے قرضوں کے رجحان میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق نجی شعبے نے مالیاتی سال 2020-2021 کے جولائی سے 8 جنوری تک 215.5 ارب روپے کے قرضے لیے جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ان قرضوں کی مالیت 130.2 ارب روپے تھی قرضوں میں اضافے کی وجہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی ہے۔

دسمبر کے قرضوں میں ری باؤنڈ سے مالیاتی سال 2020 کے مقابلے میں رواں مالیاتی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران  88 فیصد کی تیزی سے کمی کے خلاف ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

دستیاب اعدادوشمار سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ کونسا شعبہ بینکوں سے کتنا قرض لے رہا ہے لیکن اس میں سے زیادہ تر قرض ورکنگ کیپیٹل کے لیے لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

گردشی قرضے سے جان چھڑانے کیلئے حکومت کی آئی پی پیز کو واجبات ادائیگی کی پیشکش

پانچ ماہ میں اسلامی بینکوں سے نجی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ

نجی شعبے کی جانب سے اضافی قرضوں کی ایک وجہ شرح سود میں کمی ہے جبکہ بینکوں میں ڈیپازٹس کی شرح نمو میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے ڈیپازٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا جو اکتوبر 2020 میں سالانہ بنیادوں پر 13.912 کھرب روپے سے بڑھ کر 16.664 کھرب تک جا پہنچا ہے، یہ اضافہ بینکنگ سسٹم میں ہائی لیکویڈیٹی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ رجحان بینکوں کی لیکیویڈیٹی کے نتیجے میں حکومتی پیپرز میں بھاری سرمایہ کاری کے استعمال پر مجبور اور نجی شعبے کی پیش قدمی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

مالیاتی سال 2020 کے پہلے 10 ماہ میں بینکوں کے ڈیپازٹ میں اب تک 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 13 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

تاہم، جاری مالیاتی سال کے پہلے چھ ماہ کے مقابلے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسلامی بینکوں کے نجی شعبے کو قرض دینے میں بھی اضافہ ہوا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 11.7 ارب روپے کے مقابلے میں 62.3 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

نجی شعبے کے روایتی بینکوں سے لیے گئے قرض کی مالیت گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 56.5 ارب روپے کے مقابلے میں 98.2 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔

رپورٹ میں ایک سینئر بینکار نے یہ بھی کہا ہے کہ “کم از کم ہاؤسنگ اور تعیمرات، آٹو سیکٹر اور برآمدات کی جانب سے بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی شرح نمو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here