گردشی قرضے سے جان چھڑانے کیلئے حکومت کی آئی پی پیز کو واجبات ادائیگی کی پیشکش

پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.4 کھرب روپے، بلوں کی مد میں آئی پی پیز کی واجب الادا رقم 700 ارب روپے، جبکہ حکومت کو 400 ارب روپے 30 نومبر 2020ء تک واپس کرنا تھے

706

اسلام آباد: حکومت نے پاور سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے سے جان چھڑانے کے لیے انڈی پینڈننٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 450 ارب روپے جاری کرنے کی پیشکش کر دی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ اس وقت تقریباََ 2.4 کھرب روپے کے لگ بھگ ہو چکا ہے جبکہ آئی پی پیز کے مجموعی طور پر 700 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ حکومت کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کرنے والے 47 آئی پی پیز کے 400 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے آئی پی پیز کے نمائندگان کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے حل کیلئے ایک پلان پر بات چیت کی، پلان کے تحت حکومت کو ایک سال کے اندر آئی پی پیز کو تین اقساط میں ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی پیشکش پر آئی پی پیز کی جانب سے آئندہ چند روز جواب دیے جانے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومتی دعوئوں کے برعکس پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2.3 کھرب تک جا پہنچا

کابینہ ارکان کی مخالفت، پاور سیکٹر میں گھپلوں کی تحقیقات 2 ماہ کیلئے ملتوی

’نندی پور پاور پراجیکٹ میں 80 ارب کا غبن ہوا، ایف آئی اے کارروائی کرے‘

‍‍ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے گردشی قرضے کی مد میں واجب الادا رقم کی پہلی قسط رواں برس جنوری میں ادا کرنے کی پیشکش کی ہے، اسی طرح دوسری قسط جون اور تیسری قسط دسمبر 2021ء میں ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

اسی حوالے سے آئی پی پیز نے مجموعی رقم کا ایک تہائی کیش کی صورت میں جبکہ دو تہائی بانڈز کی شکل میں ادا کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نجی سیکٹر کے انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے جو اگست 2020ء میں دستخط ہونے والے ایم او یوز کی روشنی میں ہو گی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فروری میں آئی پی پیز کے نمائندگان اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ملاقات کریں گے جس میں ایم او یوز میں ضروری ترامیم کو حتمی شکل دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گردشی قرضے سے مستقل طور پر جان چھڑانے کیلئے حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِغور ہیں تاہم ابھی تک فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here