صدر نیشنل بینک کا ‘آف شور اکائونٹ’، قائمہ کمیٹی کا ایف بی آر سے ان کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ

ٹیکس دہندگان کی معلومات انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت صیغہ راز میں رکھی جاتی ہیں، ایف بی آر، جو معلومات ایف بی آر چھپانا چاہتا ہے وہ سب کو معلوم ہیں: چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات

100

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے موجودہ صدر کے آف شور اکائونٹ کے حوالے سے فیڈرل بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) سے اِن کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس گزشتہ روز کمیٹی کے چئیرمین فیض اللہ کموکہ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا، اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کے حوالہ سے ٹیکس معاملات اور آف شور اثاثہ جات کے حوالہ سے جو خبر شائع ہوئی اُس حوالہ سے ٹیکس سے متعلق امور کی سماعت اگلے مراحل میں ہے۔

ایف بی آر کے ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق نے کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان سے متعلق موصول ہونے والی معلومات کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 216 کے تحت صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔

اس پر کمیٹی کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ کسی کے انکم ٹیکس کی تفصیلات جاننے کا اختیار کمیٹی کو حاصل ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر صدر نیشنل بینک کا معاملہ سراسر عوامی نوعیت کا ہے کیونکہ وہ ایک سرکاری عہدے پر فائز ہیں لہٰذا کمیٹی اس معاملے پر بحث کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

نیشنل بینک کے سابق صدر کے خلاف ایک اور نیب انکوائری شروع

نیشنل بینک کی مالیاتی رپورٹ، ملازمین کی تنخواہوں، مراعات پر 30 ارب خرچ

کمیٹی کے رکن امجد علی خان نے کہا کہ نیشنل بینک سرکاری شعبہ کا بینک ہے اور قائمہ کمیٹی کو حق حاصل ہے کہ وہ اس حوالہ سے تمام معلومات حاصل کرے، اگر ایف بی آر چاہے تو اس معاملہ پر اِن کیمرہ بریفنگ بھی ہو سکتی ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ایف بی آر کو ایک ٹائم فریم میں تحقیقات کرنی چاہیں۔ فہیم خان نے کہا کہ نیشنل بینک قومی بینک ہے اور اس کا دیگر بینکوں سے تقابل نہیں ہو سکتا۔ یہ معاملہ زیر بحث لانا چاہئے۔

ایف بی آر کے ممبر اِن لینڈ ریونیو نے اس بارے میں لاء ڈویژن سے رائے لینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مروجہ قوانین کے تحت پرائیویسی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس پر کمیٹی کے چئیرمین فیض اللہ نے کہا کہ جو معلومات ایف بی آر چھپانا چاہتا ہے وہ سب کو معلوم ہیں اور اخبارات میں سب کچھ چھپ چکا ہے۔

ممبر اِن لینڈ ریونیو ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ اگر ڈیٹا کے بارے میں پارلیمان کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد ہو گا، اس وقت ہم رائج قوانین کے تحت چل رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس ضمن میں (آج) منگل کو ہونے والے اجلاس میں ایف بی آر کو اِن کیمرہ بریفنگ کی ہدایت کی ہے۔

علاوہ ازیں ایف بی آر کے ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز ڈاکٹر محمد اشفاق نے قائمہ کمیٹی کو ایف بی آر کے محاصل اور ریونیو اہداف کے حصول کیلئے اقدامات، ری فنڈز کی ادائیگی اور ادارے میں اصلاحات کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مالی سال کے پہلے نصف میں انکم ٹیکس ری فنڈز کی مد میں 17238 کلیمز پر 40 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ یکم جنوری 2021ء کو 110873 کلیمز پر کل 313 ارب روپے کے ری فنڈز کا اجراء ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ڈیجیٹل پاکستان: ایف بی آر کو 76 فیصد ٹیکسز، ڈیوٹیز آن لائن موصول

گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 23 لاکھ سے زائد، 43.6 ارب روپے ٹیکس جمع

15 جنوری کے بعد دس لاکھ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی، ٹیکسز کی ادائیگی آن لائن کرنا لازمی قرار

انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس کی مد میں یکم جولائی 2020ء کو ری فنڈز کے کلیمز کا حجم 138 ارب روپے تھا۔ ان میں 0.02 ارب روپے کے ری فنڈ ایڈجسٹ کئے گئے جبکہ 0.01 ارب روپے مالیت کے ری فنڈز مسترد ہوئے، گزشتہ سال کے ری فنڈز کلیمز کا حجم 52 ارب روپے جبکہ ٹیکس سال 2020ء کے سیلز ٹیکس ری فنڈز کلیمز کا حجم 96 ارب روپے ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں مختلف ری فنڈز کی مد میں 99 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کردہ ری فنڈز کا حجم  31 ارب روپے تھا، اس طرح جاری مالی سال میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 68 ارب روپے زائد ری فنڈز کا اجراء کر دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں محصولات کا حجم 2205 ارب روپے ہے، حکومت کی پالیسی کے مطابق صنعت، تجارت اور معیشت کے پہیہ کو چلانے کیلئے مراعات اور سہولیات دینے کے نتیجہ میں برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے اور برآمد کنندگان کیلئے آرڈرز پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

کمیٹی کے ارکان نوید قمر، عائشہ غوث پاشا، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور دیگر نے کہا کہ ریونیو اہداف کے حصول کیلئے سمارٹ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ایف بی آر کی جانب سے ریونیو جمع کرانے کے نظام میں خامیاں ہیں جس کی وجہ سے حکومت قرضے حاصل کر رہی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے محصولات میں اضافہ کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے فائلرز اور ریونیو دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیٹی کے چئیرمین فیض اللہ کموکہ نے آئندہ اجلاس میں ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال میں کمی کیلئے حکمت عملی پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محصولات میں اضافہ ریونیو اہداف کے حصول کیلئے سمارٹ ٹیکسیشن اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اقدامات ضروری ہیں، ریونیو اہداف کا حصول مشکل ہے تاہم عملی اقدامات کے ذریعہ بہتری لائی جا سکتی ہے، جو لوگ پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہئیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here